صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 647 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 647

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۴۷ ۷۸ - كتاب الأدب حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِنْبِ عَنْ سَعِيدٍ ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سعید مقبری الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ سے سعید نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ ابو ہریرہ سے، حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ اللهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّنَاؤُبَ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: اللہ چھینک کو فَإِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ وَحَمِدَ اللهَ كَانَ پسند کرتا ہے اور جمائی کو نا پسند کرتا ہے۔اس لئے حَقًّا عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ سَمِعَهُ أَنْ يَقُولَ جب تم میں سے کوئی چھینکے اور اللہ کا شکر کرے تو لَهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ وَأَمَّا التَّكَاؤُبُ فَإِنَّمَا ہر مسلمان پر جس نے اس کو سنا فرض ہے کہ اسے هُوَ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا تَشَاءَبَ أَحَدُكُمْ کہے: يرحمك الله۔یعنی اللہ تجھ پر رحم کرے۔اور جمائی جو ہے تو وہ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا اس لئے جب تم میں سے کوئی جمائی لے تو جہاں تَشَاءَبَ ضَحِكَ مِنْهُ الشَّيْطَانُ۔تک ہو سکے اُس کو روکے کیونکہ تم میں سے کوئی اطرافه: ۳۲۸۹، ٦٢٢٣- جب جمائی لیتا ہے تو شیطان اس پر ہنستا ہے۔إِذَا تَقَاءَبَ فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ: جب جمائی لے تو اپنے ہاتھ کو اپنے منہ پر رکھ لے۔رم و محترم پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود الحسن نوری صاحب (چیف ایگزیکٹو آفیسر / کارڈیالوجسٹ طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ ربوہ پاکستان، چیئر مین ہیومینیٹی فرسٹ پاکستان، سابق چیف کمانڈنٹ قومی و عسکری ادارہ برائے امراض قلب راولپنڈی پاکستان) تحریر فرماتے ہیں: ” جمائی ایک ایسا عمل ہے جس کے تین حصے ہیں۔پہلے حصے میں انسان آہستہ آہستہ منہ کھول کر لمبا سانس اندر لیتا ہے۔دوسرے حصے میں وہ بڑے خوفناک حد تک منہ کھولتا ہے جس سے اندرون منہ اور دانت صاف دکھائی دیتے ہیں۔تیسرا حصہ جب وہ لمبا سانس باہر نکالتا ہے۔ساتھ ساتھ ایک عجیب جانور جیسی آواز بھی نکالتا ہے۔اکثر اسی عمل کے ساتھ گردن، بازوؤں اور جسم میں تناؤ پیدا کرتا ہے۔یہ سارا عمل قریباً ۵ سیکنڈ کا ہوتا ہے۔اگر یہی عمل جو سیکنڈ کے لئے ہوتا ہے Slow motion میں دیکھا ۵ جائے تو ہر دیکھنے والے کو یہ نظارہ نا پسندیدہ لگے گا اور لازماً ایک حد تک کراہت محسوس کرے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو اعلیٰ ترین اخلاق کے مالک تھے انہوں نے انسانیت کو نہ صرف خدا تعالیٰ سے جوڑا بلکہ معاشرتی اقدار کو نہایت احسن رنگ میں ہمارے سامنے پیش کیا اور واضح طور پر روز مرہ کے اخلاق فاضلہ کا سبق سکھایا۔جمائی کے بارہ میں ناپسندیدگی کا اظہار اپنے اندر نفسیاتی، اخلاقی اور طبی نقصانات رکھتا ہے۔اس زمانہ میں خصوصاً جب دنیا سمٹ کر ایک Global village کا نقشہ پیش کرتی ہے اس لئے معاشرتی اور