صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 646 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 646

۶۴۶ ۷۸ - كتاب الأدب صحیح البخاری جلد ۱۴ سائنس بھی ثابت کر چکی ہے۔چھینک کو روکنے سے جراثیم اور مضر ذرات پھیپھڑوں میں داخل ہو کر trap ہو جاتے ہیں اور ان ذرات کے جمع ہونے سے پھیپھڑوں میں مختلف بیماریاں جنم لیتی ہیں لیکن یہ بات بھی ضروری ہے کہ چھینکتے ہوئے احتیاط برتنی چاہیئے اور ہاتھ ، باز ویار ومال سے منہ اور ناک کو ڈھانک لینا چاہیئے۔چھینک کے عمل کو پرانی تہذیبوں نے بھی خوش آئند کہا ہے اور صحت کے مختلف علاج میں سے ایک علاج قرار دیا ہے۔کبھی تو مصنوعی طور پر ناک میں گھاس کا تنکہ اور کبھی کوئی اور کھجلی دار چیز ڈالی جاتی تھی تا کہ چھینک آئے۔اور اس کو فائدہ مند سمجھا جاتا تھا۔قدیم یونانی تہذیب میں چھینک کو نیک شگون کے طور پر دیکھا جاتا تھا اور اس کو اپنے خداؤں کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔یورپ میں Middle ages میں چھینک کو قریب المرگ مریضوں میں علاج کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔انگلستان کا بادشاہ King Charles II جب مرنے کے قریب ہوا تو اس کو چھینک دلانے والی ادویات کا استعمال کروایا گیا تا کہ زندگی بحال ہو سکے۔مشرقی ایشیاء، چین، کوریا، جاپان، نیویارک، اٹلی، جرمنی اور دیگر کئی ممالک میں جب بھی چھینک آئے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ کوئی اچھے رنگ میں یاد کر رہا ہے اور Bless you کے الفاظ بولے جاتے ہیں۔مذکورہ بالا حدیث میں ایک اشارہ ہر مسلمان بلکہ ہر احمدی مسلمان دانشور اور ریسرچ سکالر کے لئے بھی ہے۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ہر مسلمان پر جس جس نے اسے سنا فرض ہے کہ اس کا جواب دے۔“ یہ حکم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے علاوہ ہمیں غور کرنے کی طرف بھی ترغیب دیتا ہے۔موجودہ زمانہ میں زیادہ تر مسلمان ممالک پستی کا شکار ہیں اس وجہ سے مختلف Airborne diseases ، ماحول کی آلودگی، گندگی اور احتیاطی تدابیر سے عدم توجہی کے باعث لامتناہی بیماریوں اور اموات سے بھرا پڑا ہے اور ناک، گلے، پھیپھڑوں کی بیماریاں روز بروز بڑھتی جارہی ہیں۔اس لئے ہر مسلمان سائنسدان کو اس طرف ریسرچ اور علاج کے نئے طریق معلوم کرنے کی ضرورت ہے۔اگر یہ معلوم ہو جائے کہ کس طریق سے اللہ تعالیٰ کے عطا کر دہ دفاعی نظام (Immune System کو تقویت دی جاسکتی ہے تو ان گنت بیماریوں پر قابو پایا جا سکتا ہے اور یہ موذی مرض ”Corona Pandemic “جس نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اس سے جان چھڑائی جاسکتی ہے۔اور اس کے علاوہ دیگر بیشمار بیماریوں کی وجوہات اور طریقہ علاج کا کھوج لگایا جاسکتا ہے۔روزنامه الفضل لندن ( آن لائن ایڈیشن) ۲۷، جولائی ۲۰۲۰ء ، صفحہ ۷) بَاب ۱۲۸ : إِذَا تَثَاءَبَ فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ جب جمائی لے تو اپنے ہاتھ کو اپنے منہ پر رکھ لے ٦٢٢٦ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيّ :۶۲۲۶: عاصم بن علی نے ہم سے بیان کیا کہ ابن