صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 645
۶۴۵ صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۸ - كتاب الأدب طور پر دماغ میں signal بھیجتے ہیں اور آنافا نا چھینکنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔اور ان سب ذرات وغیرہ کا فوری انخلاء ہوتا ہے۔اور کسی قسم کا مضر ذرہ یا جراثیم دماغ یا جسم میں داخل نہیں ہو سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ حیرت انگیز نظام انسان کی حفاظت کرتا ہے ورنہ انسان کئی جان لیوا دماغی و جسمانی امراض میں مبتلا ہو سکتا ہے۔“ اس راز کو سمجھنے کے لئے اللہ تعالٰی قرآن کریم میں فرماتا ہے : فَبِاتي الآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِ بنِ (الرحمن: ۱۴) ترجمه: "پس (اے جن وانس) تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے۔“ محترم نوری صاحب لکھتے ہیں: تحقیق نے یہ بات بھی ثابت کی ہے کہ چھینکنے کا عمل ہمارے قوت مدافعت کے نظام کو بھی تقویت دیتا ہے اور ہم صحت مند رہتے ہیں۔جب بھی کوئی بیرونی مضر اشیاء ناک میں داخل ہوتی ہے تو ہمارے دماغ میں ”Sneeze Centre متحرک ہو جاتا ہے اور مختلف Neurotransmitter release ہوتے ہیں جن کو میڈیکل اصطلاح میں Endorphins کہتے ہیں اور یہ ہمارے جسم کے مختلف اعضاء اور پٹھوں کو حرکت میں لاتے ہیں اس کے نتیجے میں ہم اپنی آنکھیں، منہ اور گلا بند کر لیتے ہوئے بڑے زور سے منہ اور ناک کے ذریعے ہو امیں مضر ذرات باہر نکالتے ہیں۔چھینک کے آنے کے بعد ایک طبعی فرحت اور خوشی کا احساس ہوتا ہے اور ہر انسان اس کا تجربہ کر چکا ہے۔یہ خوشی کا احساس Endorphins کی release کی وجہ سے ہے۔اس لئے حدیث میں ہے کہ جب کوئی چھینکے تو اللہ کا شکر ادا کرے اور الحمد للہ کہے۔اب سوچیں کہ اس حدیث کے تناظر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کتنا گہر راز اپنے اندر رکھتا ہے۔گو چھینک ایک معمولی عمل ہے اسے معمولی نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ خالق کی رحمانیت کا منہ بولتا ثبوت ہے اور ایک صاحب عقل انسان بر ملا کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللهَ قيما وَقُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا ۚ سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ه ( آل عمران: ۱۹۲) ترجمہ : ” وہ لوگ جو اللہ کو یاد کرتے ہیں کھڑے ہوئے بھی اور بیٹھے ہوئے بھی اور اپنے پہلوؤں کے بل بھی اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور و فکر کرتے رہتے ہیں۔(اور بے ساختہ کہتے ہیں) اے 66 ہمارے رب اتو نے ہر گز یہ بے مقصد پیدا نہیں کیا۔پاک ہے تو۔پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔“ اور پھر ہماری کسی کوشش کے بغیر چھینک بہت سی خطر ناک بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے۔مزید یہ کہ ہمارے پیارے ہادی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک بات ختم نہ کی بلکہ یہ بھی فرمایا کہ ”ہر مسلمان جس نے اس کو سنا فرض ہے کہ اسے کہے یرحمک اللہ یعنی اللہ تجھ پر رحم کرے۔“ یہ ارشاد بھی ایک حکیمانہ پہلو اپنے اندر رکھتا ہے کہ اپنے لئے بھی رحم مانگو اور ایک دوسرے کے لیے بھی رحم مانگے۔یہ آپس میں بھائی چارہ اور محبتیں بڑھانے کا ایک اور ذریعہ ہے۔ماہرین ناک کان اور گلا (ENT Specialist) یہ بھی بتاتے ہیں کہ چھینکنے سے انسان کے ناک کی صفائی کا نظام دوبارہ تازہ دم ہو جاتا ہے۔اس کو سائنسی اصطلاح میں re-boot ہونا بھی کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے کہ جب کمپیوٹر میں کوئی خلل واقع ہو جائے تو اسے ایک دفعہ بند کر کے دوبارہ چلایا جائے اور وہ تازہ دم ہو کر کام کرنے لگ جاتا ہے۔مذکورہ بالا حدیث میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ چھینک کے عمل کو روکنا نہیں چاہیئے اور یہی بات آج