صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 644
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۴۴ ۷۸ - كتاب الأدب هَذَا حَمِدَ اللَّهَ وَلَمْ تَحْمَدِ اللَّهَ۔مجھے نہ دیا۔آپ نے فرمایا: اس نے تو اللہ کا شکر کیا تھا اور تم نے شکر نہ کیا تھا۔طرفه ٦٢٢١- تشريح: لَا يُشَمَّتُ الْعَاطِسُ إِذَا لَمْ يَحْمَدِ الله: چھینکنے والے کو جواب نہ دیا جائے اگر اس نے اللہ کا شکر ادا نہ کیا۔ذیل میں ہم مکرم و محترم پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعودالحسن نوری صاحب (چیف ایگزیکٹو آفیسر / کارڈیالوجسٹ طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ ربوہ پاکستان، چیئر مین ہیومینیٹی فرسٹ پاکستان، سابق چیف کمانڈنٹ قومی و عسکری ادارہ برائے امراض قلب راولپنڈی پاکستان کے شکریہ کے ساتھ ان کا ایک مضمون درج کرتے ہیں جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کلام کی ایک سائنسی تعبیر معلوم ہوتی ہے۔محترم نوری صاحب تحریر فرماتے ہیں: ”جب بھی کوئی انسان چھینکتا ہے تو ہم یہی سوچتے ہیں کہ وہ جراثیم پھیلا رہا ہے اور ماحول کو گندا کر رہا ہے۔یہ بات صحیح ہے کہ چھینکنے سے ہم تقریباً دس ہزار جراثیم یا وائرس سومیل فی گھنٹہ کی رفتار سے تین سے پانچ فٹ کے فاصلہ تک بکھیر رہے ہیں اور ایک بیمار انسان ماحول کو آلودہ کر رہا ہے۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ چھینکنے کے عمل سے اللہ تعالیٰ ہمارے جسم کو غیر معمولی طور پر محفوظ رکھتا ہے اور ماحول میں مضر ذرات و جراثیم جو ہمارے ناک یا منہ کے ذریعہ داخل ہوتے ہیں ان کو باہر نکال دیتا ہے۔چھینکنے کے عمل سے ہمارے ناک، منہ اور سانس کی نالیوں کی نہایت احسن رنگ میں صفائی ہو جاتی ہے۔کچھ اس قسم کی صفائی کا سسٹم Mechanical Air Blowers کے ذریعے مختلف فیکٹریوں میں گندے ذرات اور Gases کو باہر نکالنے میں استعمال ہوتا ہے۔مغربی دنیا نے چھینک کے عمل کو سمجھنے کے بعد Mechanical Air Blower کا طریقہ ایجاد کیا اور ان گنت جگہوں پر نصب کر کے ماحول کی صفائی کا نظام بہتر کیا ہے۔اغلباً اس ترقی یافتہ دور میں چھینک کے عمل کو سمجھنے اور عوام الناس کے فائدہ پہنچانے کی طرف بھی یہ حدیث مبارکہ پیشگوئی کا رنگ رکھتی ہے۔محترم نوری صاحب لکھتے ہیں: مجھے یاد ہے حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ ملاقات کے دوران چھینک کے بارہ میں ایک نہایت عمدہ بات بتائی تھی جو علم طب کے ماہرین اور سب احباب کی معلومات میں اضافہ کی بات ہے۔آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”انسان کے ناک کے پچھلے حصہ کا دماغ کے ساتھ نہایت قریبی تعلق ہے۔یہ تعلق ایک نہایت باریک سوراخوں والی پلیٹ (Plate) کے ذریعہ ہے جس کو Cribriform Plate کہتے ہیں، یہ پلیٹ (Plate) باہر کے ماحول (یعنی ناک) اور دماغ کے درمیان واقع ہے۔اس کے ذریعے ناک کے بالوں پر موجود قوت شامہ Olfactory ،receptors nerve fibres بناتے ہیں اور یہ برقی تاروں کے ذریعے Cribriform plate سے ہوتے ہوئے دماغ میں داخل ہوتے ہیں۔جب بھی کوئی ذرات، جراثیم ، irritants تیز گرم یا سرد ہوا، تیز روشنی یا تیز smell ناک کے ذریعے ہمارے جسم میں داخل ہوتی ہے یا دماغ کی طرف رخ کرتی ہے تو ناک کے special receptors اور پلیٹ فوری