صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 642 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 642

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۴۲ ۷۸ - كتاب الأدب عَنْ سَبْعِ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ أَوْ قَالَ دینے اور مظلوم کی مدد کرنے اور قسم دے کر حَلْقَةِ الذَّهَبِ وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ مانگنے والے کی قسم کو پورا کرنے کا حکم دیا۔اور وَالدِّيبَاحِ وَالسُّنْدُسِ وَالْمَيَاثِرِ۔آپ نے ہمیں سات باتوں سے روکا۔یعنی سونے کی انگوٹھی یا کہا: سونے کا چھلا پہنے سے اور حریرے اور دیباج کے اور سندس کے پہنے سے اور ریشمی لال زین پوشوں سے۔أطرافه: ١٢٣٩، ٢٤٤٥، ٥١٧٥، ٥٦٣٥، ٥٦٥، ٥۸۳۸ ، ٥٨٤٩، ٥٨٦٣، ٦٢٣٥، ٦٦٥٤۔بَاب ١٢٥ : مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْعُطَاسِ وَمَا يُكْرَهُ مِنَ التَّثَاؤُبِ چھینک کو اچھا سمجھا جائے اور جمائی کو بُرا سمجھا جائے ٦٢٢٣: حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ :۶۲۲۳: آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِنْبِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔سعید مقبری نے ہم الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ سے بیان کیا۔سعید نے اپنے باپ سے، ان کے رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ باپ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، حضرت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ ابوہریر ڈا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: اللہ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی وَيَكْرَهُ التَّنَاؤُبَ فَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ کو ناپسند کرتا ہے۔جب کوئی چھینکے تو اللہ کا شکریہ اللهَ فَحَقِّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ سَمِعَهُ أَنْ کرے تو ہر ایک مسلمان پر جس نے اُسے سنا فرض يُشَمِّتَهُ وَأَمَّا التَّنَاؤُبُ فَإِنَّمَا هُوَ مِنَ ہے کہ اس کا جواب دے اور جو جمائی ہے تو وہ الشَّيْطَانِ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ فَإِذَا شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔اسے جہاں تک قَالَ هَاء ضَحِكَ مِنْهُ الشَّيْطَانُ۔ہو سکے روکے۔اور جب جمائی لیتا ہے تو شیطان اس اطرافه: ٣٢٨٩، ٦٢٢٦- الحرير : ریشمی کپڑا۔(القاموس الوحيد) پر ہنستا ہے۔الدنيا مج: ریشمین قیمتی کپڑا جس کا تانا باناریشم کا ہوتا ہے۔(القاموس الوحید) الشندسُ : ایک باریک ریشمین کپڑا۔(القاموس الوحید)