صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 641
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۴۱ بَابِ۱۲۳: الْحَمْدُ لِلْعَاطِسِ چھینکنے والے کا الحمد للہ کہنا ۷۸ - كتاب الأدب ٦٢٢١: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ :۶۲۲۱: محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ (ثوری) نے ہمیں بتایا، کہا: سلیمان نے ہم سے أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ بیان کیا۔انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى الله عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَلَمْ وسلم کے پاس دو آدمیوں نے چھین کا تو آپ نے اُن يُشَمِّتْ الْآخَرَ فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ هَذَا میں سے ایک کو جواب دیا اور دوسرے کو جواب حَمِدَ اللَّهَ وَهَذَا لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ۔نہیں دیا۔آپ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اس نے اللہ کا شکر کیا تھا اور اس نے اللہ کا شکر نہیں کیا۔طرفه: ٦٢٢٥۔بَاب ١٢٤ : تَشْمِيتُ الْعَاطِسِ إِذَا حَمِدَ اللَّهَ جب چھینک مارنے والا اللہ کی حمد کرے تو اسے جواب دینا اس کی بابت حضرت ابو ہریرہ نے روایت کی۔فِيهِ أَبُو هُرَيْرَةَ۔٦٢٢٢: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ :۶۲۲۲ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اشعث بن سلیم قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ سُوَيْدِ بْنِ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے معاویہ بن مُقَيِّنٍ عَنِ الْبَرَاءِ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُوَيد بن مقرن سے سنا۔انہوں نے حضرت براء الْبَرَاءِ رَضِيَ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعِ أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ اور سات باتوں سے روکا۔آپ نے ہمیں بیمار پرسی الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعِ الْجِنَازَةِ وَتَسْمِيتِ کرنے اور جنازے کے ساتھ جانے اور چھینک الْعَاطِسِ وَإِجَابَةِ الدَّاعِي وَرَةِ السَّلَامِ مارنے والے کا جواب دینے اور دعوت کرنے وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ وَنَهَانَا والے کی دعوت قبول کرنے اور سلام کا جواب