صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 640
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۴۰ ۷۸ - كتاب الأدب مِنَ الْأَنْصَارِ فَسَلَّمَا عَلَى رَسُولِ اللهِ علیہ وسلم کو السلام علیکم کہا۔پھر جلدی سے آگے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَفَذَا فَقَالَ بڑھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے لَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فرمایا: ذرا ٹھہر جاؤ۔یہ صفیہ بنت حی ہی ہے۔وہ عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّمَا هِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ دونوں بولے: سبحان اللہ یا رسول اللہ۔اور اُن پر حُيَةٍ قَالَا سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللهِ یہ بات شاق گزری۔آپ نے فرمایا: شیطان تو وَكَبُرَ عَلَيْهِمَا مَا قَالَ قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ ابن آدم میں وہاں تک چل کر پہنچتا ہے جہاں خون پہنچتا ہے۔اور میں ڈرا کہ کہیں تمہارے دل میں يَجْرِي مِنْ ابْنِ آدَمَ مَبْلَغَ الدَّمِ وَإِنِّي کوئی وسوسہ نہ ڈال دیا جائے۔خَشِيتُ أَنْ يُقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا۔أطرافه ۲۰۳۵، ۲۰۳۸، ۲۰۳۹، ۳۱۰۱، ۳۲۸۱، ۷۱۷۱- باب ۱۲۲: النَّهْيُ عَنِ الْخَذْفِ ٹھیکریاں پھینکنے سے روکنا ٦٢٢٠: حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۶۲۲۰: آدم بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بن شعبہ نے ہمیں بتایا۔شعبہ نے قتادہ سے روایت صُهْبَانَ الْأَزْدِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللهِ کی۔قتادہ نے کہا: میں نے عقبہ بن صہبان از دی بْنِ مُغَفَّلِ الْمُزَنِي قَالَ نَهَى النَّبِيُّ سے سنا۔عقبہ نے حضرت عبد اللہ بن مغفل مزئی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن الْخَذْفِ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَقَالَ إِنَّهُ لَا يَقْتُلُ الصَّيْدَ وَلَا يَنْكَأُ نے ٹھیکری پھینکنے سے روکا ہے۔آپ نے فرمایا: یہ نہ تو شکار مارتی ہے اور نہ دشمن کو زخمی کرتی ہے۔اور یہ ضرور ہوتا ہے کہ وہ آنکھ کو پھوڑ دیتی ہے اور دانت توڑ دیتی ہے۔الْعَدُوَّ وَإِنَّهُ يَفْقَأُ الْعَيْنَ وَيَكْسِرُ السِّنَّ۔اطرافه: ٤٨٤١، ٥٤٧٩۔