صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 638
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۳۸ ۷۸ - كتاب الأدب سُلَيْمَانَ وَمَنْصُورٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ نے سلیمان اور منصور سے ، ان دونوں نے سعد بن عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عبیدہ سے، سعد نے ابو عبد الرحمن سلمی سے ، ابو عَلِي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ عبد الرحمن نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ کی۔وہ کہتے تھے : ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فَجَعَلَ يَنْكُتُ الْأَرْضَ بِعُودٍ فَقَالَ ایک جنازے میں تھے تو آپ ایک لکڑی سے زمین لَيْسَ مِنْكُمْ مِّنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ فُرغَ مِنْ کو کریدنے لگے اور فرمایا: تم میں سے کوئی بھی ایسا مَّقْعَدِهِ مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَقَالُوا أَفَلَا نہیں کہ جس کا ٹھکانہ جنت میں یا آگ میں مقرر نہ کیا گیا ہو۔صحابہ نے (یہ سن کر) کہا: کیا ہم پھر نَتَّكِلُ قَالَ اعْمَلُوا فَكُلُّ مُيَسَّرْ فَأَمَّا بھروسہ نہ کریں؟ آپ نے فرمایا: عمل کرتے رہو مَنْ أَعْطَى وَاتَّقُى (الليل: ٦) الْآيَةَ۔کیونکہ ہر ایک کو سہولت دی گئی ہے۔پس جس نے خدا کی راہ میں) دیا اور تقویٰ اختیار کیا۔أطرافه: ١٣٦٢، ٤٩٤٥ ٤٩٤٦ ٤٩٤٧، ٤٩٤٨، ٤٩٤٩، ٦٦٠٥، ٧٥٥٢۔بَاب ۱۲۱ : التَّكْبِيرُ وَالتَّسْبِيحُ عِنْدَ التَّعَجُبِ تعجب کے وقت اللہ اکبر یا سبحان اللہ کہنا رَضِيَ ٦٢١٨: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۶۲۱۸ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَتْنِي هِندُ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے روایت کی۔بِنْتُ الْحَارِثِ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ اللہ زہری نے کہا:) ہند بنت حارث نے مجھ سے بیان عَنْهَا قَالَتْ اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى الله کیا کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: نبی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سُبْحَانَ اللهِ مَاذَا صلی اللہ علیہ وسلم جاگے اور فرمایا: سبحان اللہ۔کیا أُنْزِلَ مِنَ الْخَزَائِنِ وَمَاذَا أُنْزِلَ مِنَ کیا خزانے اُتارے گئے ہیں اور کیا کیا فتنے اتارے الْفِتَنِ مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجَرِ گئے ہیں۔کون ان حجروں والیوں کو جگائے؟ آپ يُرِيدُ بِهِ أَزْوَاجَهُ حَتَّى يُصَلِّينَ رُبَّ کی اس سے مراد اپنی ازواج تھیں تاکہ وہ نماز كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٌ فِي الْآخِرَةِ پڑھیں کتنی ہی دنیا میں کپڑے پہنے ہوئے ہیں جو