صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 633
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۳۳ ۷۸ - كتاب الأدب مِنْ شَيْءٍ وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا۔صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو طلحہ کے گھوڑے پر سوار ہوئے۔آپ نے فرمایا: ہم نے کچھ بھی نہیں دیکھا اور اس گھوڑے کو تو ایک دریا پایا ہے۔أطرافه ٢٦٢٧، ۲۸۲٠، ۲۸۵۷، ۲۸۶۲، ۲۸۶۶، ۲۸۶۷، ۲۹۰۸، ۲۹۶۸، ۲۹۶۹، - ٣٠٤٠ ٦٠٣٣ رح : طور الْمَعَارِيضُ مَنْدُوحَةٌ عَنِ الْكَذِبِ : یعنی تعریض کے طور پر جو باتیں کی جاتی ہیں وہ جھوٹ میں شمار نہیں ہوتیں۔عَرَّضْتُ له وَعَرَّضَتُ به تَعْرِيضًا کے معنے ہیں إِذَا قُلْتَ قَوْلًا وَأَنْتَ تُعْنِيْه فَالتَّعْرِيضُ ضِنُّ التَّصْرِيحِ مِن الْقَوْلِ۔(اقرب الموارد - عرض) یعنی اشارۃ ایسی بات کہنا جس کا مفہوم کہنے والا ہی سمجھتا ہو تعریض کہلاتا ہے۔یہ لفظ متضاد ہے تصریح ( یعنی واضح بات ) کا۔معاریض سے مراد ایسی مہم باتیں ہیں جن میں کسی خاص بات کی طرف اشارہ کیا جارہا ہو۔امام راغب نے اس لفظ کی وضاحت میں آیت کریمہ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ (البقرۃ:۲۳۶) درج کی ہے۔یعنی عورتوں سے (اُن کی عدت کے دوران) کوئی بات اشارۃ نکاح کی تجویز جیسی کہہ دینے میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔انہوں نے بیان کیا ہے کہ عَرَّضْتُم سے مراد یہ لیا گیا ہے کہ اس کی خوبصورتی کے متعلق کچھ کہہ دینا یا اسے پسند کرنے جیسی کوئی بات کر دینا۔(المفردات فی غریب القرآن - عرض) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اس میں کوئی حرج نہیں کہ تم ان عورتوں سے نکاح کے سلسلہ میں کوئی بات اشارةً کہہ دو۔مثلاً کسی بیوہ سے کہہ دیا کہ مشورہ سے کام کرنا بہتر ہو گا۔آپ کو اگر کوئی ضرورت محسوس ہو تو میں ہمدردانہ مشورہ کے لیے حاضر ہوں۔اب لفظ مشورہ عام ہے خواہ وہ اپنے لیے ہو یا کسی اور کے لیے۔اس طرح بات بھی مخفی رہتی ہے اور اشارة اس کا اظہار بھی ہو جاتا ہے۔شادی کی درخواست مراد نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ اُس سے ہمدردی اور غمخواری کا اظہار کرو تا کہ اُس پر یہ اثر ہو کہ یہ شخص میرا خیر خواہ ہے اور میں اِس سے ضرورت پر مفید مشورہ لے سکتی ہوں۔ورنہ یہ مطلب نہیں کہ اُسے صاف طور پر نکاح کے لیے کہہ دیا جائے۔ایسا کہنا ہر گز جائز نہیں۔( تفسير كبير ، سورة البقرة، زير آيت وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُم به، جلد ۲ صفحه ۵۳۱،۵۳۰)