صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 630
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۳۰ ۷۸ - كتاب الأدب عَنْهُمْ مَا أَمَرَهُ اللَّهُ بِهِ حَتَّى أَذِنَ لَهُ فِيهِمْ کلام سنو گے۔اور فرمایا: اہل کتاب میں سے بہت فَلَمَّا غَزَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے لوگ چاہتے ہیں (کہ تمہیں پھر کا فر بنادیں) تو وَسَلَّمَ بَدْرًا فَقَتَلَ اللهُ بِهَا مَنْ قَتَلَ مِنْ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان احکام کے مطابق جو صَنَادِيدِ الْكُفَّارِ وَسَادَةِ قُرَيْشٍ فَقَفَلَ اللہ نے آپ کو دیئے تھے ان سے عفو فرمایا کرتے رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تھے یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو ان کے متعلق وَأَصْحَابُهُ مَنْصُورِينَ غَانِمِينَ مَعَهُمْ اجازت دی۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر أُسَارَى مِنْ صَنَادِيدِ الْكُفَّارِ وَسَادَةِ میں جنگ کے لئے گئے اور اللہ نے کفار کے جن سر کردہ لوگوں اور قریش کے سرداروں کو وہاں مَّعَهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ هَذَا قُرَيْشٍ قَالَ ابْنُ أَبَيَ ابْنُ سَلُولَ وَمَنْ قتل کیا۔تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ غالب ہو کر اپنے ساتھ کفار کے سرکردہ اور أَمْرٌ قَدْ تَوَجَّهَ فَبَايِعُوا رَسُولَ اللَّهِ قریش کے سرداروں کو قید میں کئے ہوئے واپس صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ لوٹے تو ابن ابی ابن سلول اور جو اُس کے ساتھ فَأَسْلَمُوا۔مشرک بت پرست تھے کہنے لگے: یہ کام تو آب بہت بڑا ہو گیا ہے۔یہ دیکھ کر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اسلام پر بیعت کر لی اور وہ مسلمان ہو گئے۔أطرافه: ٢٩٨٧، ٤٥٦٦ ، ٥٦٦٣، ٥٩٦٤- ٦٢٠٨ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ :۶۲۰۸ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ابو عوانہ نے ہمیں بتایا۔عبد الملک نے ہم سے بیان عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ کیا۔انہوں نے عبد اللہ بن حارث بن نوفل سے، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ عبد اللہ نے حضرت عباس بن عبد المطلب سے يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبِ روایت کی کہ انہوں نے کہا: یارسول اللہ ! کیا آپ بِشَيْءٍ فَإِنَّهُ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ نے ابو طالب کو کچھ فائدہ پہنچایا؟ کیونکہ وہ آپ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں لفظ "ميخفظ“ ہے۔(فتح الباری، جزء ۱۰ صفحہ ۷۲۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔