صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 629
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۲۹ ۷۸ - كتاب الأدب عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَابَّتَهُ فَسَارَ حَتَّى دَخَلَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے جوش کو دھیما عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ کرتے رہے یہاں تک کہ وہ خاموش ہو گئے۔اس صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ سَعْدُ أَلَمْ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جانور پر تَسْمَعْ مَا قَالَ أَبُو حُبَابِ يُرِيدُ عَبْدَ اللَّهِ سوار ہو کر چلے گئے اور حضرت سعد بن عبادہ کے بْنَ أُبَي قَالَ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ سَعْدُ بْنُ پاس پہنچے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عُبَادَةَ أَيْ رَسُولَ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ اعْفُ سعد! تم نے نہیں سنا جو ابو حباب نے کہا؟ یعنی عبد اللہ بن اُبی نے۔اُس نے ایسا ایسا کہا ہے۔عَنْهُ وَاصْفَحْ فَوَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ حضرت سعد بن عبادہ نے (سن کر) کہا: یا رسول اللہ الْكِتَابَ لَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالْحَقِّ الَّذِي میرے باپ آپ پر قربان۔اسے معاف فرمائیں أَنْزِلَ عَلَيْكَ وَلَقَدِ اصْطَلَحَ أَهْلُ هَذِهِ اور اس سے در گزر کریں۔اُس ذات کی قسم جس الْبَحْرَةِ عَلَى أَنْ يُتَوَجُوهُ وَيُعَصِبُوهُ نے آپ پر کتاب نازل کی۔اللہ اس حق کو لے آیا بِالْعِصَابَةِ فَلَمَّا رَدَّ اللهُ ذَلِكَ بِالْحَقِّ ہے جو اُس نے آپ پر نازل کیا۔اس بستی کے الَّذِي أَعْطَاكَ شَرِقَ بِذَلِكَ فَذَلِكَ لوگوں نے یہ ٹھہر الیا تھا کہ اس کو ( یعنی عبد اللہ بن فَعَلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ فَعَفَا عَنْهُ رَسُولُ اللهِ اُبی کو تاج پہنائیں اور اس کے سر پر سرداری کا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ عمامہ باندھیں۔جب اللہ نے اسے اس حق کی وجہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ سے جو اُس نے آپ کو دیا منظور نہ کیا تو اس سے اس کا گلا گھٹ گیا۔یہی وجہ ہے جو اُس نے کیا ہے يَعْفُونَ عَنِ الْمُشْرِكِينَ وَأَهْلِ الْكِتَابِ كَمَا أَمَرَهُمُ اللَّهُ وَيَصْبِرُونَ عَلَى الْأَذَى جو آپ نے دیکھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے در گزر کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اللهُ تَعَالَى: وَلَتَسْمَعُنَ مِنَ الَّذِينَ اور آپ کے صحابہ مشرکوں اور اہل کتاب سے أوتُوا الكتب (آل عمران: ۱۸۷) الآية درگزر کیا کرتے تھے جیسا کہ اللہ نے انہیں حکم دیا۔وَقَالَ: وَذَكَثِيرٌ مِّنْ أَهْلِ الكتب اور اُن کی ایزاد یہی پر صبر کیا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ (البقرة: ١١٠) فَكَانَ رَسُولُ الله نے فرمایا: اور تم ضرور ان لوگوں سے جنہیں (تم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَأَوَّلُ فِي الْعَفْوِ سے پہلے ) کتاب دی گئی تھی ( بہت دکھ دینے والا