صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 39 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 39

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۹ ۷۵ - كتاب المرضى نہیں سکتے تھے، چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ (التوبة: ۱۲۸) یعنی یہ رسول تمہاری تکالیف کو دیکھ نہیں سکتا۔ وہ اس پر سخت گراں ہیں اور اُسے ہر وقت اس بات کی تڑپ لگی رہتی ہے کہ تم کو بڑے بڑے منافع پہنچیں۔“ باب ١٦ ( ملفوظات جلد اول صفحه (۳۴۱) مَا رُخِصَ لِلْمَرِيضِ أَنْ يَقُوْلَ إِنِّي وَجِعْ أَوْ وَا رَأْسَاهُ أَوِ اشْتَدَّ بِي الْوَجَعُ بیمار کا کہنا کہ میں بیمار ہوں یا کہنا ہائے میرا سریا یہ کہ بیماری سے مجھے سخت تکلیف ہے وَقَوْلُ أَيُّوبَ عَلَيْهِ السَّلَام أَنِّي مَسَّنِيَ اور حضرت ایوب علیہ السلام کا یہ دعا کرنا یعنی مجھے الضُّرُّ وَ انْتَ أَرْحَمُ الرَّحِمِينَ ۔ یہ دکھ لگ گیا ہے اور تو تمام رحم کرنے والوں میں (الانبياء : ٨٤) سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ ٥٦٦٥ : حَدَّثَنَا قَبِيصَةٌ حَدَّثَنَا ۵۲۲۵ : قبصہ (بن عقبہ ) نے ہم سے بیان کیا کہ سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ وَأَيُّوبَ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ (عبد اللہ بن ابی نجیح اور ایوب سے، انہوں نے أَبِي لَيْلَى عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةً مجاہد سے ، مجاہد نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ عبد الرحمن نے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُوقِدُ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ تَحْتَ الْقِدْرِ فَقَالَ أَيُؤْذِيكَ هَوَامُ وسلم میرے پاس سے گزرے اور میں ہانڈی تلے آگ جلا رہا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تمہارے سر کی رَأْسِكَ قُلْتُ نَعَمْ فَدَعَا الْحَلَّاقَ جو میں تمہیں تکلیف دیتی ہیں؟ میں نے عرض کیا: فَحَلَقَهُ ثُمَّ أَمَرَنِي بِالْفِدَاءِ۔ جی ہاں تو آپ نے حجام کو بلایا اور اس نے ان کا سر مونڈ ڈالا۔ پھر آپ نے مجھے فدیہ دینے کا حکم دیا۔ أطرافه : ١٨١٤، ۱۸۱٥، 1816، 1817، 1818، 4159، 4190، 4191، 4517، ٥٧٠٣، ٦٧٠٨۔