صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 38
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۸ ۷۵ کتاب المرضى جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَنِي سے جو منکدر کے بیٹے ہیں انہوں نے حضرت جابر النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی لَيْسَ بِرَاكِبِ بَغْلٍ وَلَا بِرْذَوْنِ۔صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس میری عیادت کرنے کو آئے آپ نہ خچر پر سوار تھے اور نہ گھوڑے پر۔أطرافه : ١٩٤، ٤٥٧٧، 0651، 0676، ٠٦٧٢3 ٦٧٤٣، ٧٣٠٩۔تشریح: عِبَادَةُ الْمَرِيض : بہار کی عیادت کو جانا۔باب ۵ سے ۱۵ تک ابواب میں مریضوں کی عیادت کی مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں جیسا کہ عناوین ابواب سے ظاہر ہے۔مثلاً جو آدمی بے ہوش ہو جائے اس کو دیکھنے جانا (باب (۵) مرگی کے مریض کی عیادت کرنا ( باب ۶) عورتوں کا مردوں کی بیمار پرسی کرنا (باب (۸) بچوں کی عیادت کرنا ( باب ۹) گنواروں کی عیادت کرنا ( باب ۱۰) مشرکوں کی عیادت کرنا ( باب ۱۱) اگر کسی بیمار کی عیادت کو جائے اور نماز کا وقت ہو گیا ہو اور پھر وہ ان کو باجماعت نماز پڑھائے (باب ۱۲) بیمار پر ہاتھ رکھنا اور اس کے لیے دعا کرنا ( باب ۱۳) بیمار کو کیا کہا جائے اور وہ کیا جواب دے ( باب ۱۴) بیمار کی عیادت کو سوار ہو کر یا پیدل چل کر یا گدھے پر کسی کے پیچھے بیٹھ کر جانا ( باب ۱۵) ا مذکورہ ابواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مختلف مریضوں کی عیادت کیلئے جانے کا ذکر ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ بیمار کی تکلیف کو محسوس فرماتے اور آپ کی ہمدردی اُن بیماروں کے لیے رحمت کا سامان بن جاتی۔آپ اپنی لا تعداد مصروفیات کے باوجود بیمار کی تکلیف کے لیے خود چل کر تشریف لے جاتے، اپنے ساتھ صحابہ کو لے جاتے ، مریض کی حالت کے مطابق اس کے لیے علاج تجویز فرماتے ، اپنے تبرک سے اس کو برکت بخشتے ، دردمندانہ دعاؤں سے اس کی تکلیف کو دور کرتے۔بعض مریضوں کے لیے آپ نے مسجد نبوی میں خیمے لگوائے تاکہ ان کے علاج کی خود نگرانی فرما سکیں اور انہیں دیکھ کر ان کے لیے دعا ہوتی رہے۔آپ کا یہ درد تمام انسانی طبقات کے لیے یکساں تھا۔اپنے غیر مشرک ، بدوی، مرد، عورتیں، بچے غرض کوئی بھی طبقہ آپ کے رحم سے محروم نہ تھا بلکہ آپ کے قلب صافی سے ان تمام تکلیف زدہ افراد کے لیے دعائیں ابر رحمت بن کر برتیں جو ان کی جسمانی، روحانی اور اخلاقی صحت کا موجب بنتیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: جذب اور عقدِ ہمت ایک انسان کو اُس وقت دیا جاتا ہے جبکہ وہ خدا تعالیٰ کی چادر کے نیچے آجاتا ہے اور ظل اللہ بنتا ہے۔پھر وہ مخلوق کی ہمدردی اور بہتری کے لئے اپنے اندر ایک اضطراب پاتا ہے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مرتبہ میں گل انبیاء علیہم السلام سے بڑھے ہوئے تھے اس لئے آپ مخلوق کی تکلیف دیکھ