صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 623
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۲۳ ۷۸ - كتاب الأدب نے ایک خادم اسلام نبی کی بعثت کا ذکر فرمایا ہے جسے ابن مریم حکم عدل اور کا سر صلیب و دیگر کئی مقدس ناموں سے پکارا گیا ہے۔ نیز اس راوی کی یہ بات اسی روایت کے دیگر متون کو دیکھنے سے بھی خلاف واقعہ معلوم ہوتی ہے جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کو نبی اللہ قرار دیا۔ فرمایا: إِنَّهُ لَنبی ابن کیتی۔ کہ وہ نبی ہے اور نبی کا بیٹا ہے۔ اس لئے یہ محض راوی کا اپنا خیال اور تصور ہے جسے حجت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بَاب ۱۱۰ : تَسْمِيَةُ الْوَلِيدِ ولید نام رکھنا ٦٢٠٠ : أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمِ الْفَضْلُ ۲۲۰۰ : ابو نعیم فضل بن دکین نے ہمیں بتایا کہ بْنُ دُكَيْنِ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ ابن عیینہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے زہری الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سے ، زہری نے سعید سے، سعید نے حضرت لَمَّا رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابوہریرہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب نبی رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ قَالَ اللَّهُمَّ أَنْجِ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر رکوع سے اٹھایا تو دعا الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ کی: اے اللہ اولید بن ولید اور سلمہ بن ہشام اور وَعَيَّاسَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ عیاش بن ابی ربیعہ اور وہ مؤمنین جنہیں مکہ میں بِمَكَّةَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهُمَّ اشدن کمزور سمجھا جاتا ہے نجات دے۔ اے اللہ ! مصر کو سختی سے روند دے۔ اے اللہ ! اُن کے لئے اُن وَطْأتَكَ عَلَى مُضَرَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا کے سالوں کو ایسے سال بنا دے جو یوسف کے عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ۔ سال جیسے ہوں۔ أطرافه: ۷۹۷، ۸۰۴، ۱۰۰۹ ، ۲۹۳۲، ٣٣٨٦، ٤٥٦٠ ، ٤٥٩٨ ، ٦٣٩٣ ، ٦٩٤٠۔ بَاب ۱۱۱ : مَنْ دَعَا صَاحِبَهُ فَنَقَصَ مِنِ اسْمِهِ حَرْفًا جس نے اپنے ساتھی کو بلایا اور اس کے نام سے کوئی حرف کم کر دیا وَقَالَ أَبُو حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اور ابو حازم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اللهُ عَنْهُ قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نقل کیا کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یا أَبَاهِر ا (کنز العمال، كتاب الفضائل، الباب الاول الفصل الثالث فى فضائل متفرقة ، جزء ا ا صفحه ۴۷۲)