صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 622 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 622

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۲۲ ۷۸ - كتاب الأدب فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ فَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ وَدَعَا وسلم کے پاس لایا اور آپ نے اس کا نام ابراہیم لَهُ بِالْبَرَكَةِ وَدَفَعَهُ إِلَيَّ وَكَانَ أَكْبَرَ رکھا اور ایک کھجور سے گھٹی دی اور اس کے لئے برکت کی دعا کی اور پھر مجھے دیا۔اور وہ حضرت وَلَدِ أَبِي مُوسَى۔طرفه: ٥٤٦٧ - ابوموسی کے بیٹوں میں سے سب سے بڑا تھا۔٦۱۹۹: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا :۶۱۹۹: ابو الولید نے ہم سے بیان کیا کہ زائدہ نے زَائِدَةً حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ سَمِعْتُ ہمیں بتایا۔زیاد بن علاقہ نے ہم سے بیان کیا۔الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ قَالَ انْكَسَفَتِ (انہوں نے کہا: میں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ رَوَاهُ سے سنا۔وہ کہتے تھے : جس دن (صاحبزادہ) ابراہیم أَبُو بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ فوت ہوئے سورج گرہن ہوا۔اس حدیث کو حضرت ابو بکرڈ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔وَسَلَّمَ۔اطرافه: ١٠٤٣، ١٠٦٠- تشريح : مَنْ سَمَّى بِأَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاء: جس نے انبیا کے ناموں پر نام رکھا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: مسلمان لوگ جو اپنے بچوں کے نام احمد اور موسیٰ اور عیسی اور سلیمان اور داؤد وغیرہ رکھتے ہیں تو درحقیقت اسی تفاول کا خیال انہیں ہوتا ہے جس سے نیک فال کے طور پر یہ ارادہ کیا جاتا ہے کہ یہ بچے بھی ان بزرگوں کی روحانی شکل اور خاصیت ایسی اتم اور اکمل طور سے پیدا کر لیں کہ گویا انہی کا روپ ہو جائیں۔“ توضیح مرام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۹) وَلَوْ قُضِيَ أَن يَكُونَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيٌّ عَاشَ ابْنُهُ وَلَكِنْ لَا نَبِيَّ بَعْدَدُ یعنی اور اگر یہ مقدر ہوتا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ہو تو آپ کا بیٹا زندہ رہتا۔مگر آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔زیر باب روایت نمبر ۶۱۹۴ میں جو کہا گیا ہے اس کے متعلق اول تو یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نہیں ہیں بلکہ ایک راوی کے الفاظ ہیں اور ان کا اپنار جحان اور خیال ہے کیونکہ یہ الفاظ قرآن کریم کی ان آیات کے خلاف ہیں (جن کی تعداد کم از کم دس ہے) جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی غلامی میں اُمت محمدیہ میں امتی نبی کی آمد کا بصراحت ذکر ہے۔نیز یہ الفاظ ان احادیث صحیحہ کے بھی خلاف ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم