صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 617
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۱۷ ۷۸ - كتاب الأدب بَابِ ۱۰۷: اسْمُ الْحَزْنِ حزن نام رکھنا ٦١٩٠ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ :۶۱۹۰ اسحاق بن نصر نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَن عبد الرزاق نے ہمیں بتایا۔معمر نے ہمیں خبر دی۔الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِيهِ معمر نے زہری سے، زہری نے ابن مسیب سے، أَنَّ أَبَاهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى الله ابن مسیب نے اپنے باپ سے روایت کی کہ ان کا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا اسْمُكَ قَالَ باپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔آپ نے حَزْنٌ قَالَ أَنْتَ سَهْلَ قَالَ لَا أُغَيْرُ پوچھا: تمہارا نام کیا ہے ؟ اُس نے کہا: حزن۔آپ اسْمًا سَمَّانِيهِ أَبِي قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ نے فرمایا: تم سہل ہو۔اُس نے کہا: میں وہ نام نہیں فَمَا زَالَتِ الْحُزُونَةُ فِينَا بَعْدُ حَدَّثَنَا بدلتا جو میرا نام میرے باپ نے رکھا۔(سعید) عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَمَحْمُودٌ هُوَ ابْنُ ابن مسیب کہتے تھے: تو پھر اس کے بعد ہم میں سختی اور مصیبت ہمیشہ رہی۔علی بن عبد اللہ اور محمود نے ہم سے بیان کیا اور وہ غیلان کے بیٹے تھے۔ان دونوں نے کہا: عبد الرزاق نے ہم سے بیان کیا۔معمر نے ہمیں خبر دی۔معمر نے زہری سے ، زہری نے ابن مسیب سے، انہوں نے اپنے غَيْلَانَ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِهِ بِهَذَا۔طرفه: ٦١٩٣ - باپ سے، ان کے باپ نے ان کے دادا سے روایت کرتے ہوئے یہی بتایا۔حزونة: جگہ کا گھر درا اور سخت ہونا۔المَكَانُ حَزن : جگہ سخت ہے، کھردری ہے۔أَخَزَنَ الْمَكَانُ : سخت ہونا۔(قاموس الوحيد – حزن) بِفَتْحِ الْمُهْمَلَةِ وَسُكُونِ الزَّاى: مَا غَلُظَ مِنَ الْأَرْضِ ، وَهُوَ ضِلُّ السَّهْلِ، وَاسْتُعْمِلَ فِي الْخُلُقِ يُقَالُ: فِي فُلَانٍ حُرُونَةٌ أَي فِي خُلْقِهِ غِلْظَةٌ وَقَسَاوَق ( فتح الباری جزء ۰ ۱ صفحه ۷۰۴) ابن فارس نے کہا ہے کہ اس مادہ میں سختی، شدت اور گھر درے پن کا پہلو ہوتا ہے۔(لغات القرآن - حزن)