صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 37
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۷ ۷۵ کتاب المرضى الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْيَهُودُ کہانی سنایا کرو۔حضرت ابن رواحہ نے کہا: نہیں حَتَّى كَادُوا يَتَنَاوَرُونَ فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ يا رسول الله ! بلکہ آپ ہماری مجلسوں میں آکر ہمیں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ یہ سنایا کریں کیونکہ ہم یہ باتیں پسند کرتے ہیں۔حَتَّى سَكَتُوا فَرَكِبَ النَّبِيُّ صَلَّى الله اس پر مسلمان اور مشرک اور یہودی آپس میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَابَّتَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى سَبّ و شتم کرنے لگے یہاں تک کہ قریب تھا کہ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ لَهُ أَيْ سَعْدُ أَلَمْ ایک دوسرے پر حملہ کرتے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جوش کو دباتے رہے یہاں تک کہ وہ تَسْمَعْ مَا قَالَ أَبُو حُبَابِ يُرِيدُ خاموش ہو گئے۔پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَـيِّ قَالَ سَعْدٌ جانور پر سوار ہو گئے اور حضرت سعد بن عبادہ کے يَا رَسُولَ اللهِ اعْفُ عَنْهُ وَاصْفَحْ پاس پہنچے آپ نے فرمایا: سعد کیا تم نے نہیں سنا جو فَلَقَدْ أَعْطَاكَ اللَّهُ مَا أَعْطَاكَ وَلَقَدِ ابو حباب نے کہا؟ آپ کی مراد عبد اللہ بن ابی اجْتَمَعَ أَهْلُ هَذِهِ الْبُحَيْرَةِ عَلَى أَنْ سے تھی۔حضرت سعد نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ يُتَوّجُوهُ فَيُعَصِبُوهُ فَلَمَّا رَدَّ ذَلِكَ اس کو معاف کریں اور اس سے در گزر کریں اللہ بِالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاكَ شَرِقَ بِذَلِكَ نے آپ کو عطا کیا ہے اور کیا خوب عطا کیا ہے۔فَذَلِكَ الَّذِي فَعَلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ۔اس بستی کے لوگوں نے اتفاق کر لیا تھا کہ اس کو تاج پہنائیں اور اس کی دستار بندی کریں۔جب اللہ نے اس تجویز کو اس حق کی وجہ سے رد کر دیا جو اس نے آپ کو دیا تو اس سے (غصے کے مارے ) اس کا گلا گھٹ گیا۔یہ وجہ ہے اس نے جو کیا آپ نے جو دیکھا۔أطرافه : ۲۹۸۷، ٤٥٦٦، ٠٥٩٦٤ ٦٢٠٧، ٦٢٥٤ - ٥٦٦٤: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ ۵۲۶۴: عمرو بن عباس نے ہمیں بتایا کہ عبد الرحمن حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ (بن) (مهدی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان عَنْ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ المُنْكَدِرِ عَنْ بن عیینہ نے ہم سے بیان کیا۔سفیان نے محمد