صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 613
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۱۳ بَاب ۱۰۳: قَوْلُ الرَّجُلِ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي آدمی کا یوں کہنا: میرے ماں باپ تم پر قربان -2A - كتاب الأدب فِيهِ الزُّبَيْرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اس کے متعلق حضرت زبیر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔وَسَلَّمَ۔٦١٨٤ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى :۶۱۸۴: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ بچی نے ہمیں عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بتایا۔انہوں نے سفیان ثوری) سے روایت کی۔عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ عَلِيّ سعد بن ابراہیم نے مجھے بتایا۔سعد نے عبد اللہ بن رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ مَا سَمِعْتُ شداد سے، عبد اللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی نہیں سنا کہ آپ سوائے يُفَدِّي أَحَدًا غَيْرَ سَعْدِ سَمِعْتُهُ يَقُولُ حضرت سعد کے کسی اور کو یوں کہتے ہوں کہ میرے ارْمِ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي أَظُنُّهُ يَوْمَ أُحُدٍ۔ماں باپ تم پر قربان۔میں نے آپ سے سنا۔آپ أطرافه ١٩٠٥، ٤٠٥٨ ٤٠٥٩۔سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ فرماتے تھے: تیر پھینکو۔میرے ماں باپ تم پر قربان۔اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ اُحد کا دن تھا۔بَاب ١٠٤: قَوْلُ الرَّجُلِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ آدمی کا یوں کہنا: اللہ مجھے تمہارے قربان کرے وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ اور حضرت ابو بکر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا ہم باپوں اور ماؤں کو آپ کے قربان کریں۔٦١٨٥: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۶۱۸۵: علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ بشر حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بن مفضل نے ہمیں بتایا۔یحی بن ابی اسحاق نے ہم بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ سے بیان کیا۔انہوں نے حضرت انس بن مالک أَنَّهُ أَقْبَلَ هُوَ وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَ النَّبِيِّ سے روایت کی کہ وہ اور حضرت ابوطلحہ نبی صلی اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ النَّبِيِّ علیہ وسلم کے ساتھ آرہے تھے۔اور نبی صلی ہی کام کے