صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 612 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 612

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۱۲ ۷۸ - كتاب الأدب الْكَرْمُ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ۔طرفه: ٦١٨٢- اور لوگ (انگور کو) کرم کہتے ہیں۔کرم تو مؤمن کا دل ہے۔تشريح: إِنَّمَا الْكَرْمُ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ: یعنی کرم تو مومن کا دل ہے۔عربی میں انگور کو بھی گڑھ کہتے ہیں لیکن اس کے بنیادی معانی یہ ہیں : شرف في القنی و فِي نَفْسِهِ أَوْ شَرَفْ فِي خُلُقٍ مِنَ الْأَخْلَاقِ (مقاییس اللغة - کرم کرم کے معنی کسی چیز کا ذاتی مرتبہ یا اخلاق میں اعلیٰ خلق کے ہیں۔نیز والكَرَمُ لَا يُقالُ إِلَّا في المَحَاسِنِ الكَبِيرَةِ، وَإِنْفَاقِ مَالٍ فِي تَجْهِيزِ غَرَاةٍ، وتحملِ حَمَالَةٍ يُوقَى بِهَادَهُ قَوْمٍ ، وَقِيلَ الكَرَمُ : إِفَادَةُ مَا يَنْبَغِي لَا لِغَرِضٍ، فَمَنْ وَهَبَ المَالَ يُجَلْبٍ نَفْعِ أَوْ دَفْعِ ضَرَرٍ ، أَوْ خَلاص من ذَةٍ فَلَيْس بگریم۔(تاج العروس - کرم) اور کرم کا لفظ صرف بڑے اوصاف کے لئے ہی استعمال ہوتا ہے جیسے کہ (جہاد کے لئے) لشکر کی تیاری میں مال خرچ کرنا یا قوم کے خون کی حفاظت کے لئے کوئی ذمہ داری اُٹھانا۔اور کہا جاتا ہے کرم سے مراد بے لوث کسی کو کوئی فائدہ پہنچاتا ہے۔جو کوئی ذاتی مفاد کے لئے یا دفع شر کے لئے یا خون بہا کی چھٹی سے نجات کے لئے مال دیتا ہے وہ کریم نہیں کہلاتا۔جیسا کہ مذکورہ بالا معنی سے ظاہر ہے کرم بہت بڑے شرف کے لئے استعمال ہوتا ہے۔عرب لوگ چونکہ شراب کے ریشہ تھے اور شراب ان کے رگ وریشہ میں اس قدر سرایت کر چکی تھی کہ وہ سب سے زیادہ عزت، شرف اور فائدے والی چیز شراب کو ہی سمجھتے تھے اس لئے اسے "کرم کا نام دے رکھا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا که کرم یعنی حقیقی شرف، عزت اور اعلیٰ مرتبے اور اعلیٰ اخلاق والا تو مومن کا دل ہے یا مومن ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ مومن کے لئے کرم کے لفظ کا اطلاق کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ” قِيْلَ الْكَرِيمُ قَد يُطلَقُ عَلَى الْجَوَادِ الْكَثِيرِ النَّفْعِ۔بعض ائمہ لعنت کہتے ہیں کہ کریم کا لفظ سنی اور نفع رساں شخص کیلئے بولا جاتا ہے۔وَقَدْ يُطلَقُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ على أحْسَنِهِ كَمَا قِيلَ الْكَرِيمُ صِفَةٌ مَا يُرْضى وَيُحْمَدُ فِي مَا بِهِ۔نیز کریم کا لفظ ہر اس وجود کیلئے بولا جاتا ہے جو کسی نوع میں سے اعلیٰ درجہ کا ہو۔اسی طرح کریم کا لفظ ہر اُس چیز کی حقیقت کے طور پر استعمال ہوتا ہے جو اپنی نوع میں اعلیٰ درجہ کی ہو اور ہر شخص کو پسند آئے۔چنانچہ کہتے ہیں رِزْقی گریم یعنی اعلیٰ درجہ کا اور اتنا کثیر رزق جو پسند کیا جائے۔نیز کہتے ہیں قول گریم اور اس سے یہ مراد ہوتی ہے کہ نرم اور عمدہ بات اسی طرح کہتے ہیں کتاب گریم اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایسی کتاب جو اپنے الفاظ، معانی اور فوائد میں بے نظیر اور اعلیٰ درجہ کی ہو۔(اقرب) ( تفسير كبير ، سورة الفرقان، زیر آیت وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ ، جلد ۶ صفحه ۵۸۰)