صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 611
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۱۱ ۷۸ - كتاب الأدب لوگ پیدا ہو گئے ہیں۔عیسائیوں کی کتابیں پڑھ لو تو ان میں بھی یہی لکھا ہو گا کہ یہ زمانہ بہت بُرا ہے، اس میں ہر قسم کے گندے لوگ پیدا ہو گئے ہیں۔غرض زمانہ کو بُرا کہنے والے آج ہی نہیں ہر زمانہ میں پائے جاتے رہے ہیں مگر اچھا کہنے والے بھی ہمیں ہر زمانہ میں نظر آتے ہیں۔در حقیقت ہر شخص کی اپنی اپنی ذہنیت ہوتی ہے کسی وقت اُسے ایک چیز اچھی نظر آتی ہے اور کسی وقت وہی چیز اسے بری نظر آنے لگتی ہے۔“ (خطبات محمود، خطبہ جمعہ فرموده ۲، جولائی ۱۹۵۴ء، جلد ۳۵ صفحه ۱۶۱،۱۶۰) بَاب ۱۰۲: قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا الْكَرْمُ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا: کرم تو مومن کا دل ہے وَقَدْ قَالَ إِنَّمَا الْمُفْلِسُ الَّذِي يُفْلِسُ اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ مفلس تو وہی ہے جو يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَقَوْلِهِ إِنَّمَا الصُّرَعَةُ الَّذِي قیامت کے دن مفلس ہو گا۔جیسا کہ آپ نے يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ كَقَوْلِهِ لَاَ فرمایا: پہلوانی تو اس کی ہے جس نے غصے کے وقت مُلْكَ إِلَّا اللَّهِ فَوَصَفَهُ بِانْتِهَاءِ الْمُلْكِ ثُمَّ اپنے نفس پر قابورکھا۔جیسا کہ آپ نے فرمایا: کوئی ذَكَرَ الْمُلُوكَ أَيْضًا فَقَالَ : إِنَّ الْمُلُوكَ بادشاہت نہیں مگر صرف اللہ ہی کی۔یعنی آپ إذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا (العمل: ٣٥) نے بتایا کہ تمام بادشاہیاں ختم ہو جائیں گی اس کی نہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے بادشاہوں کا یوں بھی ذکر کیا ہے۔فرمایا: بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اسے خراب کر دیتے ہیں۔٦١٨٣: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۶۱۸۳: علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ سے زہری نے سعید بن مسیب سے، سعید نے ، عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقُولُونَ الْكَرْمُ إِنَّمَا انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: