صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 608
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۰۸ ۷۸ - كتاب الأدب جیسے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جنہیں ابن ام عبد کہا جاتا تھا اور حضرت عبد اللہ بن ام مکتوم اور حضرت محمد بن حنفیہ جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے مگر حضرت فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اولاد میں سے نہیں تھے انہیں فاطمی اولاد سے الگ دکھانے کے لئے ابن حنفیہ کہا جاتا تھا۔باب ۱۰۰: لَا يَقُلْ خَبُثَتْ نَفْسِي (طبیعت کی خرابی کے لئے ) حبقت نفسی (میر انفس گندہ ہو گیا ہے ) مت کہو ٦١٧٩ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ :۶۱۷۹ محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ سفیان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام بن عروہ) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ سے ، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، حضرت عائشہ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ خَبُقَتْ نَفْسِي وَلَكِنْ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی (طبیعت کی خرابی کے لئے ) یوں ہر گز نہ کہے: خَبُثَتْ نَفْسِی۔بلکہ یوں کہہ لے: لیست نفسی۔کہ میرے نفس میں لِّيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي۔غفلت پیدا ہو گئی ہے۔٦١٨٠: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا ۲۱۸۰: عبد ان نے ہم سے بیان کیا کہ عبد اللہ (بن عَبْدُ اللَّهِ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ (مبارک) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یونس سے، أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ یونس نے زہری سے، زہری نے حضرت ابو امامہ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا بن ہل سے، حضرت ابو امامہ نے اپنے باپ سے، يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ خَبُقَتْ نَفْسِي وَلَكِنْ ان کے باپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت لِّيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي تَابَعَهُ عُقَيْلٌ۔کی۔آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی (طبیعت کی خرابی کے لئے ) یوں ہر گز نہ کہے کہ خَبقَتْ نَفْسِی بلکہ یوں کہہ لے: لَقِسَتْ نَفْسِی۔(یونس کی طرح) اس حدیث کو عقیل نے بھی بیان کیا۔