صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 607
صحیح البخاری جلد ۱۴ فُلَانِ بْن فُلَانٍ۔۶۰۷ ۷۸ - كتاب الأدب دغا بازی کا نشان ہے۔أطرافه: ۳۱۸۸، ٦١٧٧، ٦٩٦٦، ٧١١١- تشریح۔مَا يُدعى النَّاسُ بابام یعنی لوگوں کو ان کے باپوں کے نام لے کر جو پکارا جائے۔حدیث میں آتا ہے: إِنَّكُمْ تُدْعَونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِكُمْ ، وَأَسْمَاءِ آبَائِكُمْ ، فَأَحْسِنُوا أَسْمَاءَ كُمْ یعنی قیامت کے دن تم اپنے اور اپنے باپوں کے ناموں سے پکارے جاؤ گے۔پس اپنے اچھے نام رکھو۔عامتہ الناس میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو ان کے باپ کی بجائے ماں کی نسبت سے پکارا جائے گا۔بعض ضعیف اور کمزور سند کی روایات میں اگر چہ اس کا ذکر ملتا ہے۔علامہ ابن حجر نے لکھا ہے کہ قیامت کے دن ماؤں کی نسبت سے بلائے جانے کا ذکر حدیث میں آیا ہے: هُوَ حَدِيث أخرجه الطبراني من حديث بن عَبَّاس وَسَنَدَه ضَعِيف جدا وأخرج بن عَدِي مِنْ حَدِيثِ أَنس مِثْلَهُ ( فتح الباری جزء ۱ صفحه ۲۹۱) یعنی وہ حدیث طبرانی نے حضرت ابن عباس سے روایت کی۔اس کی سند بہت کمزور ہے۔اور بنی عدی نے بھی حضرت انس سے ایسی ہی (ضعیف) سند سے روایت نقل کی ہے۔مگر یہ بات قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں کہیں بیان نہیں کی گئی بلکہ ہر شخص کو اس کے باپ کی نسبت سے پکارنے کا حکم دیا گیا ہے جیسا کہ عنوان باب کے الفاظ سے ظاہر ہے : يُدعى النَّاسُ بِأَبَاعِهِمْ۔یعنی لوگوں کو ان کے باپوں کے نام لے کر پکارا جائے۔اور اس علم کے باوجود کہ میرا باپ کون ہے اپنی ولدیت کسی اور سے منسوب کرنا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معیوب قرار دیا ہے بلکہ اسے افتراء سے تعبیر کیا ہے۔فرمایا ہے: إِنَّ مِن أَعظم الفِرَى أَنْ يَدعَى الرَّجُلُ إِلَى غير أبنه " یعنی یہ بھی نہایت ہی بڑا بہتان ہے کہ آدمی اپنے باپ کے سوا کسی اور کی منسوب ہو۔مغربی دنیا میں بالعموم بچوں کی ابنیت کا اندراج ان کی ماں کی نسبت سے کیا جاتا ہے جس کی وجہ کوئی بھی ہو مگر اسلام نے اس کی اجازت نہیں دی بلکہ یہ تاکید کی ہے کہ بچوں کو ان کے باپ کی نسبت سے پکارا جائے۔شخص کو عنوان باب کے الفاظ سے امام بخاری نے ان کمزور روایات کارڈ کیا ہے اور زیر باب روایات سے اس دھو کہ باز اور غادر ثابت کیا ہے جو ایسے فعل شنیع کا مرتکب ہوتا ہے۔لیکن اگر باپ کی نسبت کا علم نہ ہو اور باپ چھپانا مقصود نہ ہو اور نہ اس میں کسی قسم کے دھو کہ یا خیانت کا ارتکاب ہو تو ماں کی طرف کسی بچے کا منسوب ہونا نہ صرف جائز ہے بلکہ بعض صورتوں میں پسندیدہ ہے۔بطور خاص جب کسی شخص کی والدہ اپنے نام، مقام و مرتبہ اور عزت و شہرت میں ایک خاص امتیاز رکھتی ہو۔اس کی سب سے بڑی مثال تو قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں حضرت مسیح ابن مریم کی بیان ہوئی ہے کیونکہ ان کا تو کوئی مرد باپ نہیں تھا اور ان کی والدہ اس مقام کی تھیں کہ ہر مومن کو ویسا بننے کی تاکید کی گئی ہے۔(التحریم : ۱۳) اسی طرح بعض صحابہ اپنی والدہ کے نام سے معروف ہوئے (سنن ابی داؤد، کتاب الأدب، باب في تغيير الْأَسْمَاءِ، جزء ۴ صفحه ۲۸۷) (صحیح البخاری، کتاب المناقب، روایت نمبر ۳۵۰۹)