صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 606
صحیح البخاری جلد ۱۴ ٦٠٦ ۷۸ - كتاب الأدب تشریح : قَوْلُ الرَّجُلِ مَرْحَباً : دی کا مرحبا کہا۔ اسلام نے شرف انسانی کا یہ اب بھی بیان کیا ہے کہ جب کوئی تمہیں ملتے ؟ ملنے آئے تو اُسے خندہ پیشانی سے ملو اور اچھے الفاظ میں اس کا استقبال کروا بطور خاص اگر غیر قوموں کے افراد ملنے آئیں تو ان کا واجبی احترام کرنا اسلامی آداب میں سے ایک اہم ادب ہے۔ ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِذَا أَتَاكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فَأَكْرِ مُوٹے یعنی جب کسی قوم کا عزت والا شخص آئے تو اس کی عزت کرنی چاہئیے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے قبل بعض خاص باتوں کی اُمت کو وصیت فرمائی ان میں سے ایک یہ تھی کہ جو باہر سے وفود آئیں ان کا اسی طرح احترام کرنا اور ان کی مہمان نوازی کے جملہ امور امور کا کا خیال رکھنا جس طرح میں کیا کرتا تھا۔ یہ امر افراد اور اقوام میں باہمی محبت اور الفت پیدا کرنے اور ایک دوسرے کو قریب کرنے کا نہایت حکیمانہ فعل ہے جس کی فی زمانہ ضرورت پہلے سے بہت بڑھ گئی ہے کیونکہ دنیا گلوبل ولیج بن گئی ہے۔ باب ۹۹ : مَا يُدْعَى النَّاسُ بِآبَائِهِمْ لوگوں کو ان کے باپوں کے نام لے کر جو پکارا جائے ٦١٧٧: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۶۱۷۷ : مسد دنے ہم سے بیان کیا کہ یچی ( قطان) يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبید اللہ سے، عبید اللہ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْغَادِرَ ہے ، حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے يُرْفَعُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ هَذِهِ روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: دغاباز کے لئے قیامت غَدْرَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ۔ کے دن ایک جھنڈا اٹھایا جائے گا۔ کہا جائے گا: یہ فلاں بن فلاں کی دغا بازی کا نشان ہے۔ أطرافه: ۳۱۸۸، ٦۱۷۸، ٦٩٦٦، ٧١١١۔ ٦١٧٨ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ۶۱۷۸ : عبد الله بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے ، مالک نے عبد اللہ بن دینار سے، عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ عبد اللہ نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی کہ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دغا باز جو ہے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْغَادِرَ يُنْصَبُ اس کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا نصب لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ کیا جائے گا اور کہا جائے گا: یہ فلاں بن فلاں کی ا (سنن ابن ماجه، كتاب الأدب، باب إِذَا أَتَاكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فَأَكْرِمُوهُ)