صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 605
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۰۵ ۷۸ - كتاب الأدب عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِفَاطِمَةَ مَرْحَبًا بِابْنَتِي حضرت فاطمہ کو کہا: مرحبا میری بیٹی۔اور حضرت وَقَالَتْ أُمُّ هَانِي جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ ارِ بانی نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قَالَ مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ الَّذِينَ جَاءُوا غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَدَامَى فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا حَيٍّ مِنْ رَبِيعَةَ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ مُضَرُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِي۔آئی اور آپ نے فرمایا: مرحبا اتم بائی۔٦١٧٦ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ :۶۱۶ عمران بن میسرہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ عبد الوارث نے ہمیں بتایا۔ابوتیاح نے ہم سے عَنْ أَبِي جَمْرَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ بیان کیا۔ابو تیاح نے ابو جمرہ سے، ابو جمرہ نے عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انہوں نے کہا: جب عبد القیس کے نمائندے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ نے فرمایا: ان نمائندوں کو مرحبا ہو جو آئے ہیں، نہ رسوا ہوں اور نہ پشیمان۔نمائندوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہم ربیعہ کا ایک قبیلہ ہیں اور ہمارے اور آپ کے وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ درمیان مضر حائل ہیں اور ہم آپ تک صرف ماہِ الْحَرَامِ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلِ نَدْخُلُ بِهِ حرام میں ہی پہنچ سکتے ہیں۔اس لئے آپ ہمیں الْجَنَّةَ وَنَدْعُو بِهِ مَنْ وَّرَاءَنَا فَقَالَ أَرْبَعٌ ایک فیصلہ کن بات کا حکم فرمائیں کہ جس سے ہم وَأَرْبَعٌ أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ جنت میں داخل ہو جائیں اور (اس پر عمل کرنے وَصُومُوا رَمَضَانَ وَأَعْطُوا خُمُسَ مَا کے لئے ) ہم ان کو بھی دعوت دیں جو ہمارے پیچھے غَنِمْتُمْ وَلَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَم ہوں۔آپ نے فرمایا: چار باتیں ہیں: نماز کو سنوار وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ۔کر پڑھو اور زکوۃ دو اور رمضان کے روزے رکھو اور جو غنیمت تم حاصل کرو اُس کا پانچواں حصہ دو۔اور کدو کے تو نبے اور لاکھی مرتبان اور لکڑی کے گریدے ہوئے برتن اور رال لگے ہوئے برتن میں نہ پیا کرو۔أطرافه ۵۳، ۸۷، ۵۲۳، ۱۳۹۸ ، ۳۰۹۵ ، ۳۵۱۰، ۱۳۶۸ ، ٤٣۶۹، ٧٢٦٦، ٧٥٥٦-