صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 604 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 604

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۰۴ ۷۸ - كتاب الأدب صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي چلے آرہے تھے۔ابن صیاد سے کہنے لگی: اے بِجُدُوعِ النَّخْلِ فَقَالَتْ لِابْنِ صَيَّادٍ صاف! اور یہ اس کا نام تھا۔یہ تو محمد آن پہنچے۔یہ أَيْ صَافِ وَهُوَ اسْمُهُ هَذَا مُحَمَّدٌ سن کر ابن صیاد چپ ہو گیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ فَتَنَاهَى ابْنُ صَيَّادٍ قَالَ رَسُولُ اللهِ وسلم نے فرمایا: اگر اسے رہنے دیتی تو ظاہر ہو جاتا۔صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ۔أطرافه ١٣٥٥، ٢٦٣٨، ٣٠٣٣، ٣٠٥٦۔:٦١٧٥: قَالَ سَالِمٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ۶۱۷۵ : سالم کہتے تھے: حضرت عبد اللہ بن عمر) قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں فِي النَّاسِ فَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ کھڑے ہوئے اور اللہ کی وہ کچھ تعریف کی جس کا أَهْلُهُ ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ إِنِّي وہ اہل ہے۔پھر آپ نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا: أُنْذِرُكُمُوهُ وَمَا مِنْ نَّبِيِّ إِلَّا وَقَدْ أَنْدَرَهُ میں تمہیں اس کے خطرے سے آگاہ کئے دیتا ہوں قَوْمَهُ وَلَقَدْ أَنْدَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ وَلَكِنِي اور کوئی بھی ایسا نبی نہیں ہے جس نے اپنی قوم کو سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ اس کے خطرے سے نہ ڈرایا ہو۔نوح نے بھی اپنی لِقَوْمِهِ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَغْوَرُ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ قوم کو اس سے ڈرایا۔مگر میں تمہیں اس کے متعلق ایسی بات بتاتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بِأَعْوَرَ۔قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ حَسَأْتُ بتائی۔تم یہ جان لو کہ وہ کانا ہے اور اللہ کانا نہیں۔الْكَلْبَ بَعَدْتُهُ خَبِينَ (البقرة: ٦٦) ابوعبد الله (امام بخاری) نے کہا: حَسَأْتُ الْكَلْبَ یعنی میں نے کتے کو دور کر دیا۔خییین کے معنی مُبْعَدِينَ۔ہیں: ڈور رکھے جانے والے۔أطرافه ٣٠٥٧ ٣٣٣٧ ، 3439، ٤٤٠٢، ۷۱۲۳، ۷۱۲۷، ٧٤٠٧۔بَاب۹۸: قَوْلُ الرَّجُلِ مَرْحَبًا آدمی کا مرحبا کہنا وَقَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ اور حضرت عائشہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے