صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 604
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۰۴ ۷۸ - كتاب الأدب صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي چلے آرہے تھے۔ ابن صیاد سے کہنے لگی: اے بِجُذُوعِ النَّخْلِ فَقَالَتْ لِابْنِ صَيَّادٍ صاف ! اور یہ اس کا نام تھا۔ یہ تو محمد آن پہنچے۔ یہ أَيْ صَافِ وَهُوَ اسْمُهُ هَذَا مُحَمَّدٌ سن کر ابن صیاد چپ ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ فَتَنَاهَى ابْنُ صَيَّادٍ قَالَ رَسُولُ اللهِ وَسلم نے فرمایا: اگر اسے رہنے دیتی تو ظاہر ہو جاتا۔ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ۔ أطرافه: ١٣٥٥، ٢٦٣٨، ٣٠٣٣، ٣٠٥٦- ٦١٧٥ : قَالَ سَالِمٌ قَالَ عَبْدُ اللهِ ۶۱۷۵ : سالم کہتے تھے: حضرت عبد اللہ بن عمر) قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں فِي النَّاسِ فَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ کھڑے ہوئے اور اللہ کی وہ کچھ تعریف کی جس کا أَهْلُهُ ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ إِنِّي وہ اہل ہے۔ پھر آپ نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا: أُنْذِرُكُمُوهُ وَمَا مِنْ نَّبِي إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَهُ میں تمہیں اس کے خطرے سے آگاہ کئے دیتا ہوں قَوْمَهُ وَلَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ وَلَكِنِي اور کوئی بھی ایسا نی نہیں ہے جس نے اپنی قوم کو اس کے خطرے سے نہ ڈرایا ہو۔ نوح نے بھی اپنی سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ قوم کو اس سے ڈرایا۔ مگر میں تمہیں اس کے متعلق بِأَعْوَرَ ۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ حَسَأْتُ ایسی بات بتاتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی۔ تم یہ جان لو کہ وہ کانا ہے اور اللہ کانا نہیں۔ الْكَلْبَ بَعَدْتُهُ۔ خَسِينَ (البقرة: ٦٦) ابو عبد الله (امام بخاری) نے کہا: خَسَأْتُ الْكَلْبَ مُبْعَدِينَ۔ یعنی میں نے کتے کو دور کر دیا۔ طیبین کے معنی ہیں: دُور رکھے جانے والے۔ أطرافه: ۳۰۵۷، ۳۳۳۷، ٣٤٣٩، ٤٤٠٢ ، ۷۱۲۳، ۷۱۲۷، ٧٤٠٧۔ بَاب ۹۸: قَوْلُ الرَّجُلِ مَرْحَبًا آدمی کا مرحبا کہنا وَقَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ اور حضرت عائشہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے