صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 603
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۰۳ ۷۸ - كتاب الأدب ہو۔تم اپنے اندازے سے ہر گز نہ بڑھ سکو گے۔صَادِقٌ وَكَاذِبٌ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بات تمہارے اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُلِطَ عَلَيْكَ الْأَمْرُ پر مشتبہ ہوگئی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فرمایا: میں نے تمہارے لئے دل میں کچھ ٹھانا ہے۔إِنِّي خَبَأْتُ لَكَ خَبِينًا قَالَ هُوَ الدُّخُ وہ کہنے لگا: وہ ڈرت ہی ہے۔آپ نے فرمایا: چل دور قَالَ احْسَأَ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ قَالَ عُمَرُ حضرت عمرؓ بولے : یارسول اللہ ! آپ مجھے اجازت يَا رَسُولَ اللهِ أَتَأْذَنُ لِي فِيهِ أَضْرِبْ دیتے ہیں کہ اس کی گردن اڑا دوں ؟ رسول اللہ عُنُقَهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو یہ وہی ہے تو وَسَلَّمَ إِنْ يَكُنْ هُوَ لَا تُسَلَّطُ عَلَيْهِ وَإِنْ تمہیں اس پر قابو نہیں دیا جائے گا اور اگر وہ نہیں لَّمْ يَكُنْ هُوَ فَلَا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ ہوا تو اس کے مارنے میں تمہارا کوئی بھلا نہیں۔أطرافه: 13٥٤، 3000، 6618- ٦١٧٤: قَالَ سَالِمٌ فَسَمِعْتُ ۶۱۷۴ : سالم نے کہا: میں نے حضرت عبد اللہ بن عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ انْطَلَقَ بَعْدَ عمر سے سنا۔وہ کہتے تھے: اس کے بعد رسول اللہ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابی بن کعب انصاریؒ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبِ الْأَنْصَارِيُّ يَؤُمَّانِ اس نخلستان کا قصد کرتے ہوئے گئے جس میں ابن النَّخْلَ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ حَتَّى إِذَا صياد تھا۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں داخل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کے تنوں کی آڑ میں بچتے ہوئے چلنے لگے اور آپ ابن صیاد سے چپکے سے کچھ سنا چاہتے تھے پیشتر کہ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَهُوَ يَخْتِلُ أَنْ وہ آپ کو دیکھے۔اور ابن صیاد اپنے بستر پر اپنی يُسْمَعَ مِنِ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ ایک چادر اوڑھے ہوئے لیٹا ہوا تھا جس میں سے يَّرَاهُ وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعْ عَلَى کچھ گنگنانے یا بھنبھنانے کی سی آواز آرہی تھی۔فِرَاشِهِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا رَمْرَمَةٌ أَوْ ابن صیاد کی ماں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا زَمْزَمَةٌ فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادِ النَّبِيَّ جبکہ آپ کھجوروں کے تنوں کی آڑ میں چھپتے ہوئے