صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 36
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۵ - كتاب المرضى عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ أَسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ عقیل نے ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے عروہ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ سے روایت کی کہ حضرت اسامہ بن زید نے ان عَلَى حِمَارٍ عَلَى إِكَافٍ عَلَى قَطِيفَةٍ کو خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر فَدَكِيَّةٍ وَأَرْدَفَ أَسَامَةَ وَرَاءَهُ يَعُودُ سوار ہوئے جس پر پالان تھی اور پالان پر فدک سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ فَسَارَ کی ایک چادر ڈالی گئی تھی اور آپؐ نے اُسامہ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ حضرت سعد بن عبادہ کی عیادت کا واقعہ حَتَّى مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ کو جارہے تھے۔ یہ بدر کی لڑائی سے پہلے کا أُبَيِّ ابْنُ سَلُولَ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ ہے۔ آپ گئے یہاں تک کہ ایک مجلس کے پاس عَبْدُ اللَّهِ وَفِي الْمَجْلِسِ أَخْلَاظٌ مِنَ سے گزرے کہ گزرے کہ جس میں عبد الله بن ما عبد اللہ بن ابی بن سلول الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الْأَوْلَانِ بھی تھا اور یہ واقعہ عبداللہ بن ابی) کے مسلمان وَالْيَهُودِ وَفِي الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللهِ ہونے سے پہلے کا ہے اور اس مجلس میں مسلمانوں بْنُ رَوَاحَةَ فَلَمَّا غَشِيَتِ الْمَجْلِسَ مشرکوں، بت پرستوں اور یہودیوں میں سے ملے عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ حَمَّرَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبَي جلے لوگ تھے اور مجلس میں حضرت عبداللہ بن أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ قَالَ لَا تُغَبِرُوا عَلَيْنَا رواحہ بھی تھے۔ جب اس مجلس کو سواری کی فَسَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وھول نے ڈھانپ لیا تو عبد اللہ بن اُبی نے اپنی وَوَقَفَ وَنَزَلَ فَدَعَاهُمْ إِلَى اللهِ فَقَرَأَ چادر سے اپنی ناک ڈھانپ لی کہنے لگا: تم ہم پر غبار نہ اڑاؤ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ السلام علیکم کہا اور ٹھہر گئے اور اُتر پڑے اور پھر أُبَ يَا أَيُّهَا الْمَرْءُ إِنَّهُ لَا أَحْسَنَ مِمَّا ان کو اللہ کی طرف بلایا اور ان کے سامنے قرآن تَقُولُ إِنْ كَانَ حَقًّا فَلَا تُؤْذِنَا بِهِ فِي پڑھا۔ عبد اللہ بن اُبی نے یہ سن کر آپ سے کہا: مَجْلِسِنَا وَارْجِعْ إِلَى رَحْلِكَ فَمَنْ بھلے آدمی اس سے اچھی اور کوئی بات نہیں جو تم جَاءَكَ مِنَّا فَاقْصُصْ عَلَيْهِ قَالَ ابْنُ کہتے ہو اگر یہ حق ہے تو پھر ہماری مجلس میں آکر ہمیں رَوَاحَةَ بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ فَاغْشَنَا بِهِ اس سے تکلیف نہ دیا کرو اور اپنے گھر کو لوٹ جاؤ فِي مَجَالِسِنَا فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ فَاسْتَبَّ اور ہم میں سے جو تمہارے پاس آئے اس کو یہ