صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 602
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۰۲ ۷۸ - كتاب الأدب ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صائد صَائِدٍ قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِينًا فَمَا هُوَ سے فرمایا: میں نے تمہارے لئے ایک بات دل میں قَالَ الدُّخُ قَالَ احْسَأَ۔ٹھانی ہے وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: دح۔آپ نے فرمایا: چل دُور ہو۔٦١٧٣ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۶۱۷۳: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے روایت کی۔سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ زُہری نے کہا: مجھے سالم بن عبد اللہ نے خبر دی کہ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حضرت عبد اللہ بن عمر نے انہیں بتایا کہ حضرت عمر بن خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ آپ کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں کے سمیت ابن وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ قِبَلَ میاد کی طرف چلے گئے۔آخر آپ نے اسے بنی ابْنِ صَيَّادٍ حَتَّى وَجَدَهُ يَلْعَبُ مَعَ مقالہ کے محلوں میں بچوں کے ساتھ کھیلتے پایا۔اور الْعِلْمَانِ فِي أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَقَدْ ابن صياد ان دنوں جوانی کے قریب پہنچ چکا تھا۔قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ يَوْمَئِذٍ الْحُلُمَ فَلَمْ اُسے علم نہ ہو ا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى وسلم نے اس کی پیٹھ پر اپنا ہاتھ مارا پھر فرمایا: کیا تو اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ ابن صیاد أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ نے آپ کی طرف دیکھا اور کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ان اُمیوں کے رسول ہیں۔پھر ابن صیاد فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ ثُمَّ نے کہا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ہوں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دھکیلا۔فَرَضَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پھر فرمایا: میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان ثُمَّ قَالَ آمَنْتُ بِاللهِ وَرُسُلِهِ ثُمَّ قَالَ لایا۔پھر ابن صیاد سے فرمایا: تم کیا دیکھتے ہو ؟ کہنے لِابْنِ صَيَّادٍ مَاذَا تَرَى قَالَ يَأْتِينِي لگا: میرے پاس سچا بھی آتا ہے اور جھوٹا بھی۔