صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 599 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 599

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۹۹ ۷۸ - كتاب الأدب رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سالم بن ابی جعد سے، سالم نے حضرت انس بن وَسَلَّمَ مَتَى السَّاعَةُ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ مالک سے روایت کی کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ مَا أَعْدَدْتَ لَهَا قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا عَلیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! وہ گھڑی کب ہو گی؟ آپ نے فرمایا: تم نے اس کے لئے کیا سامان مِنْ كَثِيرِ صَلَاةٍ وَلَا صَوْمٍ وَلَا صَدَقَةٍ تیار کر رکھا ہے؟ وہ بولا : میں نے اس کے لئے کچھ وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ أَنْتَ بہت نمازیں تیار نہیں رکھیں اور نہ روزے اور نہ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ ۔ أطرافه: ٣٦٨٨، 6167، 7153۔ صدقے مگر یہ بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تم انہی کے ساتھ ہو گے جن سے محبت رکھتے ہو۔ تشریح : عَلَامَةُ الحب في الله: اللہ تعالیٰ سے محبت رکھنے کی علامت الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ: یعنی آدمی اس کے ساتھ ہوتا ہے جس سے وہ محبت کرے۔ اس کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس سے محبت ہو وہ ملایا جاتا ہے اس کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ لازما خواہ کیسا ہی ہو ملا دیا جائے گا ۔ سچی محبت کی بات ہو رہی ہے اور سچی محبت میں ملنے کا ایک طریقہ ہم صورت ہونا ہے ، ہم شکل ہونا ہے یعنی مزاج اور اخلاق میں ایک جیسا ہونا پس فرمایا کہ اگر واقعہ محبت ہے تو ان دونوں کے مزاج پھر ملنے شروع ہو جائیں گے اگر آخرین کو اولین سے محبت ہے تو وہ اولین کی نقل اُتاریں گے ویسا بننے کی کوشش کریں گے۔ پس جماعت احمد یہ کے لئے جہاں اس میں بڑی خوش خبریاں ہیں وہاں ذمہ داریاں بھی بہت ہیں اور ہم میں سے ہر ایک کو ہمیشہ آئینہ اپنے پیش نظر رکھنا چاہیے۔ جب کا کہا جاتا ہے کہ مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہے۔ لے تو عملاً سب سے بڑا آئینہ تو محمد رسول اللہ ہیں۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات، آپؐ کے اخلاق حسنہ کو اپنے پیش نظر رکھیں تو اپنا چہرہ داغ داغ دکھائی دے گا۔ آئینے میں کوئی دوسرا وجود دکھائی نہیں دیا کرتا۔ محمد رسول اللہ کے آئینے میں دیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس آئینے کے حوالے سے اپنی خرابیاں سامنے آئیں گی اور جہاں کہیں ویسا حسن ملے گا اسے اور ا (ابو داؤد، کتاب الادب، حدیث: ۴۲۷۲)