صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 600
صحیح البخاری جلد ۱۴ 1++ ۷۸ - كتاب الأدب زیادہ نکھارنے کی تمنا پیدا ہو گی۔پس یہ وہ طریق ہے جس کے ذریعے سے ہم اپنے اخلاق کو اخلاق حسنہ میں تبدیل کر سکتے ہیں اور اخلاق حسنہ کو ترقی دے کر مکارم الاخلاق میں تبدیل کر سکتے ہیں یعنی وہ اخلاق جن پر حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم تھا۔“ خطبات طاہر، خطبہ جمعہ فرموده ۲۴ جون ۱۹۹۴، جلد ۱۳ صفحه ۴۷۷) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " کامل محبت کی علامت یہ ہے کہ انسان اس کی خاطر ہر ایک چیز کو قربان کر دے۔اگر اس بات کے لئے وہ تیار نہیں تو منہ کی باتیں اس کے لئے کچھ بھی مفید نہیں۔یوں تو ہر شخص کہہ دیتا ہے کہ مجھے خدا سے محبت ہے اور اس کے رسول سے محبت ہے بلکہ مسلمان کہلانے والا کوئی بھی شخص نہیں ہو گا جو یہ کہتا ہو کہ مجھے خدا اور اس کے رسول سے محبت نہیں ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ اس اقرار کا اثر اس کے اعمال پر اس کے جوارح پر اور اس کے اقوال پر کیا پڑتا ہے۔( تفسير كبير ، سورة البقرة ، زير آيت وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا، جلد ۲ صفحہ ۳۲۷) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: کوئی انسان بجز پیروی اُس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ معرفت کاملہ کا حصہ پاسکتا ہے۔اور میں اس جگہ یہ بھی بتلاتا ہوں کہ وہ کیا چیز ہے کہ سچی اور کامل پیروی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب باتوں سے پہلے دل میں پیدا ہوتی ہے۔سویا در ہے کہ وہ قلب سلیم ہے یعنی دل سے دنیا کی محبت نکل جاتی ہے اور دل ایک ابدی اور لازوال لذت کا طالب ہو جاتا ہے پھر بعد اس کے ایک مصفی اور کامل محبت الہی بباعث اس قلب سلیم کے حاصل ہوتی ہے اور یہ سب نعمتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے بطور وراثت ملتی ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے: قُلْ إِن كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران: ۳۲) یعنی اُن کو کہہ دے کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت کرے۔بلکہ یک طرفہ محبت کا دعویٰ بالکل ایک جھوٹ اور لاف و گزاف ہے۔جب انسان سچے طور پر خدا تعالیٰ سے محبت کرتا ہے تو خدا بھی اس سے محبت کرتا ہے تب زمین پر اس کے لئے ایک قبولیت پھیلائی جاتی ہے اور ہزاروں