صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 35
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۵ ۷۵ کتاب المرضى علیہ وسلم عیادت کے لئے میرے ہاں تشریف لائے اور میری تسلی کے لئے فرمایا کہ اتم علاء ! بیماری کا ایک پہلو خوش کن بھی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ مرض کی وجہ سے ایک مسلمان کی خطائیں اس طرح دور کر دیتا ہے جس طرح آگ سونے اور چاندی کا میل کچیل دور کر دیتی ہے۔دیکھیں کس طرح سے مریضوں کو تسلی دیتے رہتے تھے۔اس بات کو آپ اچھا نہیں سمجھتے تھے کہ بیماری کی وجہ سے بیماری کو کوسنے دیئے جائیں، بیماری کو برا بھلا کہا جائے کہ یہ کیا کم بخت بیماری آگئی ہے، جس طرح بعضوں کو عادت ہوتی ہے۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اہم سائب کے پاس گئے تو ان کو تکلیف میں دیکھا۔اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے۔اُتم سائب نے جواب دیا کہ بخار ہو گیا ہے، خدا اسے غارت کرے۔یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہر و، بخار کو گالیاں نہ دو کیونکہ یہ مومن کی خطائیں ویسے ہی دور کر دیتا ہے جس طرح بھٹی دور کے سونے کی میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ سے شفا کی دعا ضرور کرنی چاہئے اور آپ خود بھی مریضوں کے لئے کیا کرتے تھے لیکن اس طرح کو سنے نہیں دینے چاہئیں۔دعا اور صدقہ و خیرات سے اللہ تعالیٰ کی مدد مانگنی چاہئے۔اور بیماری پر جو صبر کی تلقین تھی وہ صرف دوسروں کے لئے نہیں تھی بلکہ اگر خود بھی کبھی بیمار ہوتے تھے یا تکلیف میں ہوتے تھے تو سب سے بڑھ کر صبر دکھانے والے خطبات مسرور ، خطبه جمعه فرموده ۱۵ اپریل ۲۰۰۵، جلد ۳ صفحه ۲۳۹،۲۳۸) تھے۔“ بَاب ١٥ : عِيَادَةُ الْمَرِيضِ رَاكِبًا وَمَاشِيًا وَرِدْفًا عَلَى الْحِمَارِ بیمار کی عیادت کے لیے سوار ہو کر یا پیدل چل کر یا گدھے پر کسی کے پیچھے بیٹھ کر جانا ٥٦٦٣ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۵۶۶۳: یحی بن بکیر نے مجھ سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ( بن سعد) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عقیل سے، (ابوداؤد، کتاب الجنائز، باب عيادة النساء ) (الأدب المفرد للبخاری، باب عيادة المرضى)