صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 590 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 590

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۹۰ ۷۸ - كتاب الأدب عَلَيْهِ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ فَقُلْتُ أَنَا أُمُّ آپ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: میں هَانِي بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ مَرْحَبًا ابو طالب کی بیٹی اتم بانی ہوں۔آپ نے فرمایا: اچھا بِأُمَ هَانِي فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ قَامَ آتا ہو اتم ہانی، خوشی سے آئیں۔جب آپ اپنے فَصَلَّى ثُمَانِيَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي نہانے سے فارغ ہو گئے آپ کھڑے ہو گئے اور تَوْبِ وَاحِدٍ فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ يَا آپ نے ایک ہی کپڑے میں لیٹے ہوئے آٹھ رَسُولَ اللهِ زَعَمَ ابْنُ أُمِّي أَنَّهُ قَاتِل رکعتیں نماز پڑھی۔جب نماز سے فارغ ہو کر مڑے رَجُلًا قَدْ أَجَرْتُهُ فُلَانُ بْنُ هُبَيْرَةَ میں نے کہا: یارسول اللہ ! میری ماں کا بیٹا یہ کہتا ہے فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہ وہ اس شخص کو مار ڈالے گا جس کو میں نے پناہ دی ہے یعنی فلاں بن ہبیرہ۔رسول اللہ صلی اللہ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِي علیہ سلم نے فرمایا: تم بانی ! ہم نے اس کو پناہ دی جس کو تم نے پناہ دی۔حضرت اُم ہانی کہتی تھیں: قَالَتْ أُمُّ هَانِي وَذَاكَ ضُحًى۔أطرافه: ۲۸۰، ۳۰۷، ۳۱۷۱ اور یہ چاشت کا وقت تھا۔شریح : مَا جَاءَ فِي زَعَمُوا زَعَمُوا الفظ کے متعلق جو کچھ حدیثوں میں آیا ہے۔لفظ ز غمہ دراصل ایسے معاملہ کے متعلق بولا جاتا ہے جس کی حقیقت کا ادراک نہ ہو۔ابن بطال نے کہا ہے کہ لفظ زعم اس وقت کہا جاتا ہے جب کسی خبر کا ایسی حالت میں ذکر کیا جائے کہ اُس کے بیچ یا جھوٹ ہونے کا علم نہ ہو۔بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ لفظ زعم کا زیادہ تر استعمال قول کے معنی میں ہے۔ابن اثیر نے بیان کیا ہے کہ اس لفظ کے معنی ظن اور گمان کے قریب ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۱۹۱) علامہ ابن حجر" کے نزدیک امام بخاری نے اس باب کو قائم کر کے حضرت ابو مسعود انصاری سے مروی ایک روایت کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں ذکر ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زعموا کے استعمال کو بری سواری پر سوار ہونے کے مترادف قرار دیا ہے۔(فتح الباری جزء ۱ صفحہ ۶۷۶) معنونہ حدیث میں حضرت ام ہائی یا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے زعم لفظ استعمال کرنا اور آپ کا انہیں اس سے منع نہ فرمانا یقینا اس کے جواز کا ثبوت ہے لیکن ایسا کہنے کو عادت بنالینا کہ ”لوگوں کا یہ خیال ہے “ یا بات بات میں یہ کہنا کہ ”ایسا گمان کیا جاتا ہے “ غیر مصدقہ باتوں کو رواج دینا ہے اور ایسی عادت کو مستحسن نہیں سمجھا گیا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس حوالہ سے معین ہدایت دی ہے۔فرماتا ہے: وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ (بنی اسرائیل: ۳۷) یعنی اور (اے مخاطب) جس بات کا تجھے علم نہ ہو اس کی اتباع نہ کیا کر۔(ترجمہ تفسیر صغیر)