صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 589
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۸۹ ۷۸ - كتاب الأدب النَّحْرِ يَعْنِي الطَّوَافَ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ آب ہمیں رو کے رکھو گی۔پھر آپ نے پوچھا: کیا تم فَانْفِرِي إِذًا۔نے قربانی کے دن طواف زیارت کر لیا تھا؟ کہنے لگیں: ہاں۔آپ نے فرمایا: پھر کوچ کرو۔أطرافه: ۳۲۸، ۱۷۳۳ ، ۱۷۰۷، ۱۷۷۱، ۱۷۷۲، ٤٤٠۱، ٥٣٢٩۔تَرِبَتْ يَمِينُكِ وَعَقَرَى حَلْقَى: تیرا بھلا ہو اور اے بھلی مانس۔ابن السکیت نے تربت يمينك کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تربت کے اصل معنی ہیں وہ محتاج ہو جائے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ کلمہ بولا تو جاتا ہے لیکن یہ دعا اس سے مقصود نہیں ہوتی۔محض فعل مذکور کی طرف راغب کر نامراد ہوتا ہے اور یہ کہ اگر اس کے خلاف کرے گا تو برا کرے گا۔علامہ نحاس نے اس کے معنی یہ بیان کیے ہیں کہ اگر تو نے ایسانہ کیا تو تیرے ہاتھوں میں صرف مٹی ہی آئے گی۔(فتح الباری جزء ۱۰ صفحہ ۶۷۶) الفاظ عقدی حلقی کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ کرمانی نے کہا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالٰی اس کے جسم کو زخمی کر دے اور اس کے حلق میں تکلیف ہو۔اصمعی نے بیان کیا ہے کہ یہ الفاظ تعجب کے اظہار کے موقع پر بولے جاتے ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۱۹۰) حضرت ابن عباس نے ان الفاظ کے معنی یہ بیان کیے ہیں کہ اُسے بال کٹنے سے تکلیف پہنچے اور اس کا جسم زخمی ہو جائے۔ان کے نزدیک یہ الفاظ جو ظاہر ادعائیہ ہیں قریش کی زبان میں محاورہ ہے جس سے دعا مراد نہیں ہوتی۔هدی السارى مقدمة فتح الباري، الفصل الخامس فى سياق الألفاظ الغريبة، حرف العين، صفحه ۲۴۵) باب ٩٤ : مَا جَاءَ فِي زَعَمُوا زعموا “ لفظ کے متعلق جو کچھ حدیثوں میں آیا ہے ٦١٥٨ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۶۱۵۸: عبد اللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔انہوں عَنْ مَّالِكٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ نے مالک سے، مالک نے ابو نفر سے جو عمر بن بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِي عبید اللہ کے غلام تھے روایت کی کہ ابومرہ نے جو بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ حضرت اُم ہانی بنت ابی طالب کے غلام تھے انہیں سَمِعَ بتایا کہ انہوں نے حضرت اُم ہانی بنت ابی طالب أُمَّ هَانِي بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ تَقُولُ سے سنا۔وہ کہتی تھیں : جس سال ملکہ فتح کیا گیا میں : ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی۔میں نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ آپ کو نہاتے ہوئے پایا اور آپ کی بیٹی فاطمہ نے يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ فَسَلَّمْتُ آپ کو پر دہ کیا ہوا تھا۔میں نے آپ کو سلام کیا۔