صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 588 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 588

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۸۸ -2A كتاب الأدب بَعْدَ مَا نَزَلَ الْحِجَابُ فَقُلْتُ وَاللهِ الح نے جو ابوالقعیس کے بھائی تھے حجاب کا حکم لَا آذَنُ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ رَسُولَ اللهِ نازل ہونے کے بعد میرے پاس آنے کی اجازت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ أَخَا أَبِي مانگی۔میں نے کہا: بخدا میں اسے اس وقت تک اجازت نہ دوں گی جب تک کہ رسول اللہ صلی اللہ الْقُعَيْسِ لَيْسَ هُوَ أَرْضَعَنِي وَلَكِنْ علیہ وسلم سے اجازت نہ لوں گی کیونکہ ابو القعیں کا أَرْضَعَتْنِي امْرَأَةُ أَبِي الْقُعَيْسِ فَدَخَلَ بھائی تو وہ نہیں ہے جس نے مجھے دودھ پلایا بلکہ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابوالقعین کی بیوی نے مجھے دودھ پلایا ہے۔اتنے فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ الرَّجُلَ لَيْسَ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے هُوَ أَرْضَعَنِي وَلَكِنْ أَرْضَعَتْنِي امْرَأَتُهُ میں نے کہا: یارسول اللہ ! یہ شخص تو وہ نہیں ہے جس قَالَ انْذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ تَرِبَتْ نے مجھے دودھ پلایا تھا بلکہ اس کی بیوی نے مجھے يَمِينُكِ۔قَالَ عُرْوَةُ فَبِذَلِكَ كَانَتْ دودھ پلایا۔آپ نے فرمایا: تیرا بھلا ہو، انہیں عَائِشَةُ تَقُولُ حَرِّمُوا مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا اجازت دو کیونکہ وہ تمہارے چا ہیں۔عروہ کہتے تھے: اسی وجہ سے حضرت عائشہ کہا کرتی تھیں کہ يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ۔دودھ پلانے کی وجہ سے وہ رشتے حرام سمجھو جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔أطرافه: ٢٦٤٤، ٤٧٩٦ ، 51٠٣، 5111، ٥۲۳۹۔٦١٥٧: حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۶۱۵۷ آدم ( بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا الْحَكَمُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَن کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔حکم نے ہم سے بیان کیا۔اللهُ عَنْهَا حکم نے ابراہیم (شخصی) سے، ابراہیم نے اسود سے، الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ قَالَتْ أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔آپ فرماتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وَسَلَّمَ أَنْ يُنْفِرَ فَرَأَى صَفِيَّةَ عَلَى بَابِ حج سے واپسی کے لیے) کوچ کرنے کا ارادہ کیا تو خِبَائِهَا كَئِيبَةً حَزِينَةً لِأَنَّهَا حَاضَتْ حضرت صفیہ کو اپنے خیمے کے دروازے پر اداس فَقَالَ عَقْرَى حَلْقَى لُغَةٌ لِقُرَيْشٍ إِنَّكِ غمگین دیکھا کیونکہ انہیں حیض آگیا تھا۔آپ نے لَحَابِسَتُنَا ثُمَّ قَالَ أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ فرمایا: عَقْرَی حَلْقَی یہ قریش کا محاورہ ہے۔تم تو