صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 588
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۸۸ ۷۸ - كتاب الأدب پلایا لا یا بلکہ بَعْدَ مَا نَزَلَ الْحِجَابُ فَقُلْتُ وَاللهِ الح نے جو ابو القعی کے بھائی تھے حجاب کا حکم لَا آذَنُ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ رَسُولَ اللهِ نازل ہونے کے بعد میرے پاس آنے کی اجازت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ أَنَا أَبِي مانگی۔ میں نے کہا: بخدا میں اسے اس وقت تک الْقُعَيْسِ لَيْسَ هُوَ أَرْضَعَنِي وَلَكِنْ اجازت نہ دوں گی جب تک کہ رسول اللہ صلی اللہ أَرْضَعَتْنِي امْرَأَةُ أَبِي الْقُعَيْسِ فَدَخَل علیہ وسلم سے اجازت نہ لوں گی کیونکہ ابوالعیں کا بھائی تو وہ نہیں ہے جس نے مجھے دودھ : عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابو القعیں کی بیوی نے مجھے دودھ پلایا ہے۔ اتنے فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ لَيْسَ میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے هُوَ أَرْضَعَنِي وَلَكِنْ أَرْضَعَتْنِي امْرَأَتُهُ میں نے کہا: یا رسول اللہ یہ شخص تو وہ نہیں ہے جس قَالَ ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمَّكِ تَرِبَتْ نے مجھے دودھ پلایا تھا بلکہ اس کی بیوی نے مجھے يَمِينُكِ۔ قَالَ عُرْوَةُ فَبِذَلِكَ كَانَتْ دودھ پلایا۔ آپ نے فرمایا: تیرا بھلا ہو، انہیں عَائِشَةُ تَقُولُ حَرِّمُوا مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا اجازت دو کیونکہ وہ تمہارے چا ہیں۔ عروہ کہتے تھے: اسی وجہ سے حضرت عائشہ کہا کرتی تھیں کہ يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ۔ دودھ پلانے کی وجہ سے وہ رشتے حرام سمجھو جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔ أطرافه: ٢٦٤٤، ٤٧٩٦ ، ۵١٠٣، ۵۱۱۱، ۵۲۳۹۔ ٦١٥٧ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ۶۱۵۷: آدم بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا الْحَكَمُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ حکم نے ہم سے بیان کیا۔ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا حکم نے ابراہیم ) ابراہیم (شخصی) سے، ابراہیم نے اسود سے، اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت قَالَتْ أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ کی۔ آپ فرماتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وَسَلَّمَ أَنْ يَنْفِرَ فَرَأَى صَفِيَّةَ عَلَى بَابِ (حج سے واپسی کے لیے) کوچ کرنے کا ارادہ کیا تو خِبَائِهَا كَثِيبَةً حَزِينَةً لِأَنَّهَا حَاضَتْ حضرت صفیہ کو اپنے خیمے کے دروازے پر اداس فَقَالَ عَقْرَى حَلْقَى لُغَةٌ لِقُرَيْشٍ إِنَّكِ عمگین دیکھا کیونکہ انہیں حیض آگیا تھا۔ آپ نے لَحَابِسَتُنَا ثُمَّ قَالَ أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ فرمایا : عَقْرَی حَلْقَی یہ قریش کا محاورہ ہے۔ تم تو