صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 587
صحیح البخاری جلد ۱۴ QAZ -2A - كتاب الأدب یعنی اے محمد رسول اللہ ! تو تو میری آنکھوں کی پتلی تھا، آج تیرے مرنے سے میری آنکھیں اندھی ہو گئیں ، اب خواہ کوئی مرے، میراباپ مرے، میری ماں مرے، بیوی مرے، بھائی مرے، بیٹا مرے، مجھے ان میں سے کسی کی موت کی پرواہ نہیں۔میں تو تیری موت سے ہی ڈرا کر تا تھا۔حضرت حسان بن ثابت جنہوں نے یہ شعر کہے ، وہ خود بھی نیک تھے اور ان کے یہ اشعار بھی حقیقت پر مبنی تھے۔پس یقیناً ایسے لوگ پہلے گروہ میں شامل نہیں۔پھر فرمایا: اُن کی عادت میں یہ بات داخل ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر کرتے ہیں اور غیر مومن شاعروں کی طرح صرف منہ سے یہ نہیں کہتے رہتے کہ ہم اپنے محبوب کے لئے یہ یہ قربانیاں کریں گے بلکہ جب دین کے بارہ میں ان پر ظلم کیا جاتا ہے تو وہ عملاً اس کا بدلہ لیتے ہیں اور ثابت کر دیتے ہیں کہ جس فدائیت کا انہوں نے اپنے شعروں میں ذکر کیا تھا عملاً بھی وہ فدائیت اُن کے اندر پائی جاتی ہے مگر اس کے ساتھ ہی اُن کا یہ رویہ نہیں ہوتا کہ وہ اپنے مخالف پر ظلم کریں بلکہ وہ ہمیشہ ظلم کے بعد بدلہ لیتے ہیں خود کسی دوسرے پر ظلم نہیں کرتے۔"6 ( تفسیر کبیر، سورة الشعراء، زیر آیت وَالشُّعَرَاء يَتَّبِعُهُمُ الْغَاؤُنَ، جلدی صفحه ۳۰۲ تا ۳۰۵) باب ۹۳ قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرِبَتْ يَمِينُكِ وَعَقْرَى حَلْقَى نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کلمات فرمانا: تیر ابھلا ہو اور اسے بھلی مانس ٦١٥٦: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ :۶۱۵۶: یحی بن نگیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ ہمیں بتایا۔انہوں نے عقیل سے ، عقیل نے ابن شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنَّ شہاب سے ، ابن شہاب نے عروہ سے ، عروہ نے أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ حضرت عائشہ سے روایت کی۔آپ فرماتی تھیں کہ - عمری کا معنی ہے بانجھ اور حلقی کا معنی ہے جس کے بال کٹے ہوں۔یہ قریش کا محاورہ ہے۔یہاں یہ الفاظ اپنے ظاہری معنوں میں نہیں بلکہ ان سے مراد اس اضطراب کا اظہار ہے جو بعض وقت انسان ایسے موقع پر محسوس کرتا ہے۔مفہوتا ”اے بھلی مانس“ یا ” اللہ کی بندی“ مراد ہے۔