صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 586 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 586

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۸۶ - كتاب الأدب وہ خوشی کی باتیں کرتے ہیں اور کبھی غمی کی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: في كُلِّ وَادِ ھیمُونَ یعنی وہ ہر جنگل میں اور ہر وادی میں سرگرداں پھرتے ہیں۔ان کو کسی جگہ بھی جذبات کے ابھارنے کا سامان مل جائے ، چاہے کہیں سے ملے، لے لیتے ہیں۔وہ عاشقوں کو بھی خوش کرتے ہیں اور معشوقوں کو بھی، وہ غریبوں کو بھی خوش کرتے ہیں اور امیروں کو بھی، وہ مظلوموں کو بھی خوش کرتے ہیں اور ظالموں کو بھی ، وہ غالب کو بھی خوش کرتے ہیں اور مغلوب کو بھی۔ان کو تو ہر کسی کی خوشی مطلوب ہوتی ہے چاہے ان کو اپنے شعروں میں کتنا بھی جھوٹ کیوں نہ بولنا پڑے۔وہ چاہتے ہیں کہ کوئی غریب ہمارے شعر پڑھے یا امیر ، ظالم پڑھے یا مظلوم، عاشق پڑھے یا معشوق، غالب پڑھے یا مغلوب، سب کے سب خوش ہو جائیں، چاہے اُن کے اشعار حقیقت سے کتنے ہی دور ہوں۔پس شعراء کا مقصد اور مدعا یہی ہوتا ہے کہ ہر خاص و عام اُن سے خوش ہو جائے اور ان کے شعروں کی داد دے۔پھر فرماتا ہے: وَانَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ۔شاعروں میں ایک یہ بات بھی پائی جاتی ہے کہ اُن کا قول اور ہوتا ہے اور فعل اور۔اور وہ جو کچھ منہ سے کہتے ہیں عملاً وہ ایسا نہیں کرتے۔یعنی اگر وہ اپنے اشعار میں لوگوں کو اخلاق حسنہ اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہیں تو خود شرابیں پیتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی نصیحت کرتے ہیں تو آپ نماز اور روزہ کے قریب بھی نہیں جاتے۔پھر فرماتا ہے: إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ وَذَكَرُوا اللهَ كَثِيرًا وَ انْتَصَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا ہاں ان شاعروں کو ہم مستقلی کرتے ہیں جو مومن ہیں اور مناسب حال عمل کرتے ہیں۔وہ اگر شعر کہتے ہیں تو اُن کا شعر حقیقت پر مبنی ہوتا ہے اور وہ وہی کچھ شعر میں کہتے ہیں جو عملی زندگی میں اُن کے اندر پایا جاتا ہے۔اس کی مثال کے طور پر ہم حضرت حسان بن ثابت کے وہ اشعار پیش کرتے ہیں جو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر کہے۔جب انہیں معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے ہیں تو انہوں نے اپنے درد اور کرب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى فَعَنِى عَلَى النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنتُ أَحَاذِرُ