صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 585
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۸۵ ۷۸ - كتاب الأدب کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین تو ایسے ہیں جنہوں نے اپنی صداقت اور دیانت اور عفت اور پاکیزگی کا ایک بے مثال نمونہ لوگوں کے سامنے پیش کر رکھا ہے۔اُن کی راتیں قیام و سجود میں اور اُن کے دن ذکر الہی اور اعلاء کلمہ اسلام میں بسر ہوتے ہیں۔پھر فرماتا ہے: أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ في كُلِّ وَادِ يَهِيمُونَ۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ شاعر مختلف طبائع کو خوش کرنے کے لئے کبھی ادھر کی بات کر دیتے ہیں کبھی اُدھر کی۔اُن کے سامنے کوئی خاص مقصد اور مدعا نہیں ہوتا بلکہ جو چیز بھی اُن کے ذہن میں آجائے اسی کے متعلق وہ کچھ نہ کچھ کہنا شروع کر دیتے ہیں۔چنانچہ شاعروں کی کوئی غزل لے لو، فِي كُلِّ وَادِ يَهِيمُونَ کا تمہیں ان کی ہر غزل میں نظارہ نظر آجائے گا۔ایک شعر میں تو لکھا ہو گا: میں مر گیا، میرا ا معشوق مجھ سے بے وفائی کرتا ہے اور میں اُس کے ہجر میں اُس کی بے التفاتی کی وجہ سے جاں بلب ہوں۔مگر ساتھ ہی اگلے شعر میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ مجھے اپنے معشوق کا وصال نصیب ہوا، میں جی اُٹھا اور میں زندہ ہو گیا۔ساری غزل کا ایک شعر بھی دوسرے شعر سے جوڑ نہیں رکھتا۔ایک شعر میں وہ کچھ اور بیان کر رہے ہوتے ہیں اور دوسرے شعر میں وہ کہیں اور نکل جاتے ہیں۔ایک شعر میں تو وہ کہتے ہیں: میں محبوب سے ملنے کی تیاری کر رہا ہوں اور دوسرے میں کہتے ہیں: ہائے مر ا جا رہا ہوں۔غرض اُن کی غزلوں کا ہر شعر دوسرے سے متناقض ہوتا ہے اور ان کی باتوں کا کوئی سر پیر ہی نہیں ہوتا۔کبھی ادھر کی کہتے ہیں کبھی اُدھر کی۔کبھی کہتے ہیں میں اپنے محبوب کے عشق میں مر گیا حالانکہ وہ زندہ اپنے شعر سنارہے ہوتے ہیں، کبھی کہتے ہیں میں اپنے معشوق کے عشق میں سرگرداں ہوں حالانکہ وہ اچھے بھلے دنیا کے کام کر رہے ہوتے ہیں۔کبھی کہتے ہیں معشوق ہر وقت ہمارے دل میں ہے اور یہ بالکل جھوٹ ہوتا ہے، کبھی کہتے ہیں کہ میں اپنے محبوب کے لئے خون کے آنسوپی رہا ہوں حالانکہ وہ آرام سے زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں۔نہ مر رہے ہوتے ہیں نہ خون کے آنسو پی رہے ہوتے ہیں۔اُن کا مطلب صرف اتنا ہوتا ہے کہ لوگوں کے جذبات کو ابھارا جائے ، چاہے وہ اُبھارنا اچھے رنگ میں ہو یا بُرے رنگ میں۔کبھی