صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 584
صحیح البخاری جلد ۱۴ رَضِيَ ۵۸۴ ۷۸ - كتاب الأدب أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ حنظلہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سالم سے، سالم اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَأَنْ يَمْتَلِيَ جَوْفُ عمر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ أَحَدِكُمْ قَيْحًا خَيْرٌ لَّهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِيَ نے فرمایا: تم میں سے کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے کہ شعر سے بھرے۔شعرًا۔٦١٥٥: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ :۶۱۵۵: عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ میرے حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ قَالُ باپ نے ہمیں بتایا۔اعمش نے ہم سے بیان کیا، سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ کہا: میں نے ابو صالح سے سنا۔ابوصالح نے حضرت اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے رَضِيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَنْ يَمْتَلِيَ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ آدمی جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا حَتَّى يَرِيَهِ خَيْرٌ کا پیٹ پیپ سے بھر جائے یہاں تک کہ وہ اُسے خراب کر کے رکھ دے، یہ اس کے لئے بہتر ہو گا مِّنْ أَنْ يَمْتَلِيَ شِعرًا۔اس سے کہ وہ شعر سے بھرے۔تشريح : مَا يُكْرَهُ أَنْ يَكُونَ الْغَالِبَ عَلَى الْإِنْسَانِ الشَّعُرُ: جو مردہ سمجھا جاتا ہے کہ انسان پر شاعر کی اس قدر غالب ہو جائے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: شعراء پر ایسے لوگ ہی گرویدہ ہوتے ہیں جن کا تقویٰ اور روحانیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔چونکہ شعراء اپنے شعروں میں عموماً عشق اور محبت نفسانیہ اور شہوانیہ کا ذکر کرتے ہیں، اس لئے ایسے ہی لوگ اُن کے پیچھے چلتے ہیں جو خود بھی تقویٰ سے دور ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بعض آوارہ نوجوانوں کو اُن کے سینکڑوں اشعار یاد ہوتے ہیں اور بعض شاعروں کی غزلیں رنڈیاں گاتی ہیں کیونکہ اُن میں خدا اور اس کے رسول کا کہیں ذکر نہیں ہوتا بلکہ عموماً ان کے ذریعہ نوجوانوں کے شہوانی جذبات کو تحریک دی جاتی ہے اور واعظ اور ناصح پر پھبتیاں اڑائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے ان کی ایسے ہی لوگوں میں مقبولیت ہوتی ہے جن کا روحانیت سے