صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 34
صحیح البخاری جلد ۱۴ سوم سر ۷۵ کتاب المرضى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں مَرَضِهِ فَمَسَسْتُهُ وَهُوَ يُوعَكُ وَعْدًا نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی شَدِيدًا فَقُلْتُ إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْدًا بیماری میں آیا اور میں نے آپ کو چھوا۔آپ کو شَدِيدًا وَذَلِكَ أَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ قَالَ تیز بخار تھا۔میں نے کہا: آپ کو تو شدید بخار ہے أَجَلْ وَمَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى إِلَّا اور یہ اس لئے کہ آپ کو دہرا ثواب ہو گا۔آپ حَانَّتْ عَنْهُ خَطَايَاهُ كَمَا تَحَاتُ وَرَقُ نے فرمایا: ہاں اور کوئی بھی ایسا مسلمان نہیں جس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہو مگر ضرور ہی اس سے اس الشَّجَرِ۔أطرافه : ٥٦٤٧، ٥٦٤٨، ٥٦٦٠، ٥٦٦٧۔کے گناہ جھڑ جاتے ہیں جیسے درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں۔٥٦٦٢ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا خَالِدُ :۵۶۶۲ اسحاق (بن شاہین واسطی) نے ہم سے بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ بیان کیا کہ خالد بن عبد اللہ نے ہمیں بتایا۔انہوں عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ نے خالد حذاء) سے، خالد نے عکرمہ سے ، عکرمہ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ يَعُودُهُ فَقَالَ لَا کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللهُ فَقَالَ كَلَّا پاس اس کی عیادت کرنے کو گئے تو آپ نے فرمایا: بَلْ هِيَ حُمَّى تَفُورُ عَلَى شَيْخ كَبِيرٍ فکر کی بات نہیں انشاء اللہ شفا ہو جائے گی۔اس نے حَتَّى تُزيرَهُ الْقُبُورَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى کہا: ہرگز نہیں بلکہ یہ آپ تو ایک بوڑھے پر ایسا جوش مار رہا ہے کہ اس کو قبریں ہی دکھا کر چھوڑے۔نبی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَعَمْ إِذًا۔أطرافه : ٣٦١٦، ٥٦٥٦، ٧٤٧٠۔صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا پھر ایسا ہی۔تشريح۔مَا يُقَالُ لِلْمَرِيضِ وَمَا يُجيبُ: بیمار کو کیاکہا جائے اور وہ کیا جواب دے۔حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ”حضرت ام علاء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں بیمار تھی اور آنحضرت صلی اللہ