صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 579 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 579

۵۷۹ صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۸ - كتاب الأدب اور بعض اوقات پڑھے بھی مگر ایسے شعروں کی مذمت کی جو انسان کو گندے خیالات اور ناپاک باتوں کی طرف لے جائیں۔مگر عمدہ خیالات اور نفیس مضامین کو شعروں میں بیان کرنے کو آپ نے پسند فرمایا، جیسے لبید شاعر کے شعر الا كُلُّ شَیءٍ مَا خَلَا اللهَ بَاطِلُ۔یعنی سنو ! ہر شے اللہ کے سوا بے حقیقت ہے۔عصر حاضر میں امام الزمان نے حمد باری تعالٰی، نعت رسول کریم اور قرآن کریم کے حسن و جمال پر مشتمل بہت اعلیٰ کلام شعروں کی صورت میں ادا فرمایا اور اس کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا: کچھ شعر و شاعری سے اپنا نہیں تعلق اس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مدعا یہی ہے ( قادیان کے آریہ اور ہم، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۴۵۹) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: " نظم تو ہماری اس مجلس میں بھی سنائی جاتی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک دفعہ ایک شخص خوش الحان کی تعریف سن کر اس سے چند ایک اشعار سنے پھر فرما یا کہ رحمت اللہ۔یہ لفظ آپ جسے کہتے تھے وہ جلد شہید ہو جاتا۔چنانچہ وہ بھی میدان میں جاتے ہی شہید ہوگیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی خود شعر پڑھتے ہیں۔پڑھنا اور کہنا ایک ہی بات ہے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی شاعر تھے۔حضرت عائشہ ، امام حسن اور امام حسین کے قصائد مشہور ہیں۔حسان بن ثابت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر قصیدہ لکھا، سید عبد القادر صاحب نے بھی قصائد لکھے ہیں۔کسی صحابی کا ثبوت نہ دے سکو گے کہ اس نے تھوڑا یا بہت شعر نہ کہا ہو مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو منع نہ فرمایا۔قرآن کی بہت سی آیات شعروں سے ملتی ہیں۔“ (ملفوظات جلد ۳ صفحہ ۱۶۲) ایک شخص کے سوال کہ سورۃ الشعراء کے آخر پر شاعروں کی مذمت ہے کا جواب دیتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: ”وہ مقام پڑھو۔وہاں خدا نے فسق و فجور کرنے والے شاعروں کی مذمت کی ہے اور مومن شاعر کا وہاں خود استثناء کر دیا ہے۔پھر ساری زبور نظم ہے ، یرمیاہ، سلیمان اور موسیٰ کی نظمیں تورات میں ہیں۔اس سے ثابت ہوا کہ نظم گناہ نہیں ہے ، ہاں فسق و فجور کی نظم نہ ہو۔ہمیں خود الہام ہوتے ہیں بعض ان میں سے مقفیٰ اور بعض شعروں میں ہوتے ہیں۔“ (ملفوظات جلد ۳ صفحہ ۱۶۳)