صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 578 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 578

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۷۸ ۷۸ - كتاب الأدب الله س بَعْضٍ نِسَائِهِ وَمَعَهُنَّ أُمُّ سُلَيْمٍ فَقَالَ ي ل ام اپنی ازواج میں سے کسی کے پاس آئے وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدَكَ سَوْقًا اور ان کے ساتھ حضرت اُم سلیم بھی تھیں۔ آپ بِالْقَوَارِيرِ۔ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ فَتَكَلَّمَ النَّبِيُّ نے فرمایا: افسوس اے انجشہ ! ان شیشوں کو آہستہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَلِمَةٍ لَوْ تَكَلَّمَ آہستہ لے چلو۔ ابو قلابہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ بِهَا بَعْضُكُمْ لَعِبْتُمُوهَا عَلَيْهِ۔ وسلم نے ایک ایسا فقرہ کہا اگر تم میں سے کوئی کہے تو تم اس کے لئے اسے معیوب گردانو۔ (یعنی آپ کا یہ قول : شیشوں کو آہستہ آہستہ لے چلو۔) أطرافه: ٦١٦١ ، ۶۲۰۲، ٦٢۰۹ ، ٦٢١٠، ٦٢١١۔ تشريح : مَا يَجُوزُ مِنَ الشَّعْرِ وَالرَّجَزِ وَالْحداء: شعر اور رجز اور حدی کہنا جو جائز ہے۔ علامہ ابن حجر بیان کرتے ہیں: أَما الشَّعْرُ فَهُوَ فِي الْأَصْلِ اسْمَ لِمَا دَقَ وَمِنْهُ لَيْتَ شِعْرِي ثُمَّ اسْتُعْمِلَ فِي الْكَلَامِ الْمُقَقَّى الْمَوْزُونِ قَصَدًا ۔۔ وَأَمَّا الرَّجَرُ فَهُوَ بِفَتْحِ الرَّاءِ وَالْجِيمِ بَعْدَهَا زَايَ وَهُوَ نَوْعٌ مِنَ الشَّعْرِ عِنْدَ الْأَكْثَرِ وَقِيلَ لَيْسَ بِشِعْرٍ لِأَنَّهُ يُقَالُ رَاجِرُ لَا شَاعِرُ وَسُنِي رَجَرًا لِتَقَارُبِ أَجْزَائِهِ وَاضْطِرَابِ النِّسَانِ بِهِ وَأَمَّا الْحُدَاءُ فَهُوَ بِضَمِّ الْحَاءِ وَتَخْفِيفِ الدَّالِ الْمُهْمَلَتَيْنِ يُمَدُّ وَيُقْصَرُ سَوْقُ الْإِبِلِ بِطَرْبٍ فَخَصُوص مِنَ الْغِنَاءِ ( فتح الباری جزء ۱۰ صفحہ ۲۶۱) یعنی شعر در حقیقت نام ہے ( ان جذبات کے اظہار کا جو بہت لطیف ہوں اور انہی معنوں میں لیت شعری کہا جاتا ہے۔ بعد ازاں اس لفظ (شعر) کا اطلاق بالا رادہ کہے جانے والے مقفی اور موزون کلام پر ہونے لگا۔ جہاں تک رجز “ جو را کی فتح اور حج اور اس کے بعد '' پر مشتمل لفظ ہے تو اکثر اہل علم کے نزدیک وہ شعر کی ایک قسم ہے۔ یہ بھی کہا گہا کہ یہ شعر نہیں ہے کیونکہ اس کے کہنے والے کو ”راجہ“ کہا جاتا ہے ”شاعر“ نہیں۔ اور بوجہ تقارب اجزاء اور زبان کے اضطراب کی وجہ سے اس کا نام ” رجل “ رکھا گیا۔ اور ”حداء “ اور دہ، مہمل پر مشتمل لفظ کا تعلق ہے تو اس سے مراد اونٹوں کو ہانکنے کے لئے لمبی یا چھوٹی نکالی جانے والی آواز ہے جو غناء کی خاص طرز پر ہوتی ہے۔ امام راغب نے لکھا ہے : فَالشَّعْرُ فِي الْأَصْلِ اسْم الْعِلْم الدقيق لے شعر دراصل باریک علم کا نام ہے۔ یہ لفظ شعور سے ہے جس کے معنی معرفت کے ہیں۔ عام طور پر منتفی ، مسبح عبارتوں کو ایک خاص وزن میں ادا کر نا شعر کہلاتا ہے۔ کلام الہی میں بھی بعض اوقات ہم وزن عبار تیں وارد ہوتی ہیں مگر وہ شعر نہیں کہلاتیں۔ جیسا کہ قرآن کریم کے بارہ میں بیان ہوا ہے : وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ (الحاقة : ۴۲) اعد (الحاقة : ۴۲) کے اس کی بہت سی اصناف ہیں۔ شعر اچھے بھی ہوتے ہیں، برے بھی۔ قرآن کریم نے دونوں قسم کے شعر کا ذکر کیا ہے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھے شعر سنے بھی ا المفردات في غريب القرآن - شعر ) ترجمه حضرت خليفة الى رت خليفة المسيح الرابع : ” اور یہ کسی شاعر کی بات نہیں۔“