صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 575
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۷۵ ۷۸ - كتاب الأدب هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعْ دَمِيتِ تو ایک انگلی ہی ہے نا جو زخمی ہوئی، اور اللہ ہی کی وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ راہ میں ہے وہ تکلیف جو تجھے پہنچی ہے۔ طرفه: ۲۸۰۲ ٦١٤٧ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ۲۱۴۷ : محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ( عبد الرحمن) ابن مہدی نے ہمیں بتایا۔ سفیان عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عبد الملک سے روایت کی۔ ابو سلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْدَقُ كَلِمَةٍ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہایت ہی سچی بات قَالَهَا الشَّاعِرُ كَلِمَةُ لَبِيدٍ: جو کسی شاعر نے کہی ہے وہ لبید کی یہ بات ہے: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ سنو ہر شے اللہ کے سوا بے حقیقت ہے۔ وَكَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ اور امیہ بن ابی الصلت قریب تھا کہ وہ مسلمان اطرافه: ٣٨٤١، ٦٤٨٩- ہو جائے۔ ٦١٤٨ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۲۱۴۸ : قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حاتم حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بن اسما اسماعیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید بن ر عبید سے ، یزید نے حضرت سلمہ بن اکوع سے بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ الى عبيد: قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ فَسِرْنَا لَيْلًا علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے۔ ہم رات کو چلے تو لوگوں میں سے ایک شخص نے عامر بن فَقَالَ رَجُلٌ مِّنَ الْقَوْمِ لِعَامِرِ بْنِ اکو سے کہا: کیا آپ ہمیں اپنے شعروں سے کچھ الْأَكْوَعِ أَلَا تُسْمِعُنَا مِنْ هُنَيْهَاتِكَ نہیں سنائیں گے ؟ (حضرت سلمہ) کہتے تھے: عامر قَالَ وَكَانَ عَامِرٌ رَجُلًا شَاعِرًا فَنَزَلَ شاعر آدمی تھے۔ وہ نیچے اُترے اور لگے لوگوں کو حدی پڑھ کر سنانے۔ یہ شعر پڑھتے تھے: يَحْدُو بِالْقَوْمِ يَقُولُ: