صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 33 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 33

صحیح البخاری جلد ۱۴ سمسم ۷۵ کتاب المرضى ہے کہ درمیانی اور بڑی عمر کے دل کی جراحی کے مریض دعا کی برکت سے جلد صحت یاب ہو جاتے ہیں اور آئندہ ہے زندگی ذہنی اور جسمانی سکون سے بسر کرتے ہیں۔ایک اور اہم نکتہ مریض کے علاج کے حوالے سے یہ ہے کہ معالج مریض کو بیماری سے مایوس نہ کرے اور نہ ہی مریض اپنی بیماری سے مایوس ہو مغربی دنیا میں -Medico Legal الزامات کے خوف سے اکثر طبیب جان لیوا بیماریوں میں مریض کو مایوس کر دیتے ہیں یا پھر مریض اور لواحقین Internet وغیرہ پر پریشان کن معلومات حاصل کر کے مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں جو بعض اوقات خود کشی پر منتج ہو جاتی ہیں۔ایک اور حدیث میں آپ نے فرمایا: ” تم میں سے کوئی موت کی آرزو ہر گز نہ کرے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام احتیاطی تدابیر اور جملہ اسباب بروئے کار لاتے مگر آپ کا اصل انحصار اور بھروسہ اللہ تعالیٰ پر ہوتا اور یہی اصول طبیب اور مریض کو بھی اپنانا چاہیے مریض اور طبیب کے تعلق میں ہمدردی (Empathy) اور بیمار پر ہاتھ رکھنا (Expressive touch) نہایت اہم ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام بر گزیدہ وجودوں کی اس برکت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ایسا ہی اُنکے ہاتھوں میں اور پیروں میں اور تمام بدن میں ایک برکت دی جاتی ہے جس کی وجہ سے اُن کا پہنا ہوا کپڑا بھی متبرک ہو جاتا ہے۔اور اکثر اوقات کسی شخص کو چھونا یا اُس کو ہاتھ لگانا، اس کے امراض روحانی یا جسمانی کے ازالہ کا وجب ٹھہرتا ہے۔“ (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن، جلد ۲۲، صفحه ۱۹) بَاب ١٤: مَا يُقَالُ لِلْمَرِيضِ وَمَا يُجِيبُ بیمار کو کیا کہا جائے اور وہ کیا جواب دے ٥٦٦١ : حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ قَالَ حَدَّثَنَا ۵۶۲۱ قبیصہ ( بن عقبہ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ سفیان ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اعمش التَّيْمِي عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ سے اعمش نے ابراہیم تیمی سے، ابراہیم نے الله رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ حارث بن سوید سے ، حارث نے حضرت عبد اللہ عَبْدِ (1) Amy L۔Ai۔Ruth E۔Dunkle, Christopher Peterson & Steven F۔Bolling (1998) The Role of Private Prayer in Psychological Recovery Among Midlife and Aged Patients Following Cardiac Surgery۔The Gerontologist, Vol 38, Pages: 591-601۔