صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 572 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 572

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۷۲ ۷۸ - كتاب الأدب تَحْتُ وَرَقهَا فَوَقَعَ فِي نَفْسِي النَّخْلَةُ وہ اپنا پھل اپنے رب کے حکم سے ہر وقت دیتا ہے فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ وَثَمَّ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ اور اس کے پتے نہیں گرتے۔میرے دل میں آیا فَلَمَّا لَمْ يَتَكَلَّمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله کہ وہ کھجور ہے مگر میں نے بُرا جانا کہ میں بات عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ النَّخْلَةُ فَلَمَّا خَرَجْتُ کروں اور وہاں حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ بھی مَعَ أَبِي قُلْتُ يَا أَبَتَاهُ وَقَعَ فِي نَفْسِي ہیں۔جب وہ نہ بولے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے النَّخْلَةُ قَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَقُولَهَا لَوْ فرمایا: وہ کھجور ہے۔جب میں اپنے باپ کے ساتھ كُنْتَ قُلْتَهَا كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا باہر نکلا تو میں نے کہا: ابا! میرے دل میں آیا تھا کہ وَكَذَا قَالَ مَا مَنَعَنِي إِلَّا أَنِّي لَمْ أَرَكَ وہ کھجور ہے۔انہوں نے کہا: تمہیں یہ کہنے سے کس نے روکا؟ اگر تم نے کہہ دیا ہو تا تو یہ مجھے ایسی وَلَا أَبَا بَكْرٍ تَكَلَّمْتُمَا فَكَرِهْتُ۔ایسی بات سے زیادہ پسند تھا۔(حضرت ابن عمر نے کہا: مجھے صرف اسی بات نے روکا کہ میں نے آپ کو اور حضرت ابو بکر کو بات کرتے نہیں دیکھا اس لئے میں نے بُرا جانا۔أطرافه (۶۱، ۶۲، ۷۲، ۱۳۱ ، ۲۲۰۹، ٤٦۹۸، ٥٤٤٤، ٥٤٤٨، ٦١٢٢- تشريح: إِكْرَامُ الْكَبِيرِ وَيَبْدَأُ الْأَكْبَرُ بِالْكَلَامِ وَالسُّؤَالِ: بڑے کی تعظیم کرنا اور جو بڑا ہو وہی پہلے بات کرے اور پوچھے۔اسلام نے معاشرتی آداب میں اس امر کو بہت اہمیت دی ہے کہ بڑوں کا احترام کیا جائے۔معاشرہ میں محبت اور امن کو پروان چڑھانے کے لئے یہ انتہائی ضروری خلق ہے۔بڑے عمر میں ہوں، عہدے میں ہوں، حیثیت میں ہوں یا رشتہ میں، اُن کا احترام کرنا اور ادب سے پیش آنا انسانی اخلاق اور اقدار میں بہت اہم ہے۔اُردو زبان کا محاورہ ہے : "با ادب با نصیب۔بے ادب بے نصیب۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَز تم صغیر کا وَيُوَفِّز گپیر کا۔کہ جو چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور بڑوں کی عزت نہیں کرتا اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”اسلام یہ کہتا ہے کہ اپنے سے بڑوں کا احترام کرو اور چھوٹوں پر شفقت کرو۔یہ احترام اور شفقت فعل سے بھی ہوتی ہے اور زبان سے بھی ہوتی ہے۔اگر کوئی شخص (سنن الترمذي، أبواب البرِّ وَالصَّلَةِ ، بَاب مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ الصَّبْيَانِ، جزء ۴ صفحه ۳۲۱)