صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 570
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۷۰ ۷۸ - كتاب الأدب بَاب ۸۹: إِكْرَامُ الْكَبِيرِ وَيَبْدَأُ الْأَكْبَرُ بِالْكَلَامِ وَالسُّؤَالِ بڑے کی تعظیم کرنا اور جو بڑا ہو وہی پہلے بات کرے اور پوچھے ٦١٤٢، ٦١٤٣: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ۶۱۴۲، ۶۱۴۳: سلیمان بن حرب نے ہم سے بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ زَيْدِ بیان کیا کہ حماد نے ہمیں بتایا جو زید کے بیٹے ہیں۔عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ حماد نے یحی بن سعید سے، يحيی نے بشیر بن سیار يَسَارٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ عَنْ رَافِعِ بْنِ سے جو انصار کے غلام تھے ، بشیر نے حضرت رافع خَدِيجٍ وَسَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّهُمَا بن خدیج اور حضرت سہل بن ابی حثمہ سے روایت حَدَّثَاهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَهْلِ وَمُحَيِّصَةَ کی کہ ان دونوں نے ان سے بیان کیا کہ حضرت بْنَ مَسْعُودٍ أَتَيَا خَيْبَرَ فَتَفَرَّقَا فِي عبد الله بن سہل اور حضرت محیصہ بن مسعود خیبر النَّحْلِ فَقُتِلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلِ فَجَاءَ میں گئے اور نخلستان میں الگ ہو گئے تو حضرت عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَحُوَيْصَةَ عبد اللہ بن سہل وہاں مار ڈالے گئے۔حضرت وَمُحَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ إِلَى النَّبِيِّ عبد الرحمن بن سہل اور حویصہ اور محیصہ جو حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمُوا فِي مسعود کے بیٹے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس أَمْرِ صَاحِبِهِمْ فَبَدَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَكَانَ آئے اور وہ تینوں اپنے ساتھی کے متعلق بات کرنے أَصْغَرَ الْقَوْمِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ لگے تو حضرت عبد الرحمن نے شروع کیا اور وہ ان عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتِرِ الْكُبْرَ قَالَ يَحْيَى تینوں میں چھوٹے تھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے يَعْنِي لِيَلِيَ الْكَلَامَ الْأَكْبَرُ فَتَكَلَّمُوا فرمایا : جو بڑا ہے اس کو بڑا رہنے دو۔بچی ( بن سعید ) فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی نے یوں کہا: جو بڑا ہے اس کو پہلے بات کرنے دو۔اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَسْتَحِقُونَ قَتِيلَكُمْ أَوْ انہوں نے اپنے ساتھی کے متعلق بات کی تو نبی قَالَ صَاحِبَكُمْ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ عَلى ال ہم نے سن کر) فرمایا: کیا تم میں سے پچاس قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ أَمْرٌ لَمْ نَرَهُ قَالَ آدمیوں کے قسم کھانے پر تم اپنے مقتول یا فرمایا: فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ فِي أَيْمَانِ خَمْسِينَ اپنے ساتھی کی دیت لینے کے مستحق ہو جاؤ گے؟ مِنْهُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ قَوْمٌ کُفَّارٌ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ ایسا امر ہے کہ ہم نے