صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 569
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۶۹ ۷۸ - كتاب الأدب فَقَالَ يَا أُخْتَ بَنِي فِرَاسٍ مَا هَذَا گے جب تک کہ ابو بکر نہ کھائیں گے۔یہ دیکھ کر فَقَالَتْ وَقُرَّةِ عَيْنِي إِنَّهَا الآنَ لَأَكْثَرُ حضرت ابو بکر کہنے لگے: یہ حالت تو ایسی معلوم قَبْلَ أَنْ نَّأْكُلَ فَأَكَلُوا وَبَعَثَ بِهَا ہوتی ہے گویا شیطان سے ہے۔یہ کہہ کر انہوں إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَنَّهُ أَكَلَ مِنْهَا۔- نے کھانا منگوایا۔خود بھی کھایا اور انہوں نے بھی کھایا۔وہ جس لقمہ کو بھی اٹھاتے تھے ضرور ہی اس کے نیچے سے اس سے بھی زیادہ بڑھتا جاتا تھا۔حضرت ابو بکر نے ( اپنی زوجہ سے) کہا: بنی فراس کی بہن! یہ کیا ہے؟ وہ بولیں : میری آنکھ کی ٹھنڈک کی قسم کہ یہ کھانا تو اب اس سے بھی زیادہ ہے کہ جو ہمارے کھانے سے پہلے تھا۔ان مہمانوں نے کھایا اور حضرت ابو بکر نے کچھ کھان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بھیجا۔اور (حضرت عبد الرحمن نے ) ذکر کیا کہ آپ نے بھی اس سے کھایا۔أطرافه: ٦٠٢، ٣٥٨١، ٦١٤٠- ح : قَوْلُ الضَّيْفِ لِصَاحِبِهِ وَالله لا آكل حَتَّى تأكل: مہمان کا اپنے میزبان سے کہنا: میں نہیں کھاؤں گا جب تک تم نہ کھاؤ۔اس باب میں امام بخاری نے مہمان نوازی کے اس ادب کی طرف توجہ دلائی ہے کہ مہمان کو چاہیے کہ وہ میزبان کو بھی کھانے میں اپنے ساتھ شریک کرے۔حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: مہمانوں کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں جن کو اگر مہمان اچھی طرح ادا کریں تو معاشرے میں مزید نکھار پیدا ہوتا ہے، آپس کے تعلقات مزید نکھرتے ہیں۔پس جہاں مومن کو یہ حکم ہے کہ مہمان کا خیال رکھو، اُس کو اُس کا حق دو، وہاں مہمانوں کو بھی ہدایات دی گئی ہیں کہ تم نے اپنے مہمان ہونے کے حقوق کس طرح استعمال کرنے ہیں اور فرائض کس طرح ادا کرنے ہیں۔گھر والوں کے لیے تنگی کے سامان نہیں کرنے۔اگر مہمان ان باتوں کو مد نظر رکھیں تو معاشرے کے ہر طبقے میں، مختلف حالات میں جو تعلقات ہیں ان کی وجہ سے جو بے چینیاں پیدا ہو رہی ہوتی ہیں وہ ختم ہو جائیں۔66 (خطبات مسرور، خطبہ جمعہ فرموده ۲۹، جولائی ۲۰۰۵، جلد ۳ صفحه ۴۴۶،۴۴۵)