صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 563
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۶۳ ۷۸ - كتاب الأدب اس نے سوچا کہ میری حالت کو دیکھ کر کراہت کریں گے ، شرم کے مارے وہ نکل کر چلا گیا۔جب لوگوں نے دیکھا تو حضرت سے عرض کی کہ جو نصرانی عیسائی تھاوہ رضائی کو خراب کر گیا ہے۔اس میں دست کیا ہوا ہے۔حضرت نے فرمایا کہ وہ مجھے دو تاکہ میں صاف کروں۔لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت آپ کیوں تکلیف اُٹھاتے ہیں، ہم جو حاضر ہیں ہم صاف کر دیں گے۔حضرت نے فرمایا کہ وہ میر امہمان تھا اس لیے میرا ہی کام ہے اور اُٹھ کر پانی منگوا کر خود ہی صاف کرنے لگے۔وہ عیسائی جبکہ ایک کو س نکل گیا تو اس کو یاد آیا کہ اس کے پاس جو سونے کی صلیب تھی وہ چار پائی پر بھول آیا ہوں۔اس لیے وہ واپس آیا تو دیکھا کہ حضرت اس کے پاخانہ کو رضائی پر سے خود صاف کر رہے ہیں۔اس کو ندامت آئی اور کہا کہ اگر میرے پاس یہ ہوتی تو میں کبھی اس کو نہ دھوتا۔اس سے معلوم ہوا کہ ایسا شخص کہ جس میں اتنی بے نفسی ہے وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔پھر وہ مسلمان ہو گیا۔“ (ملفوظات جلد ۳ صفحه ۳۷۱،۳۷۰) حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی بیان کرتے ہیں کہ ”ایک دفعہ جلسہ سالانہ پر بہت سے آدمی آئے تھے جن کے پاس کوئی پارچہ سرمائی نہ تھا۔ایک شخص نبی بخش نمبر دار ساکن بٹالہ نے اندر سے لحاف بچھونے منگوانے شروع کئے اور مہمانوں کو دیتارہا۔(میں) عشاء کے بعد حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ بغلوں میں ہاتھ دیئے بیٹھے تھے اور ایک صاحبزادہ جو غالباً حضرت خلیفہ المسیح الثانی تھے ، پاس لیٹے تھے اور ایک شتری چوغہ انہیں اوڑھا رکھا تھا۔معلوم ہوا کہ آپ نے بھی اپنا لحاف بچھونا طلب کرنے پر مہمانوں کے لئے بھیج دیا۔میں نے عرض کی کہ حضور کے پاس کوئی پارچہ نہیں رہا اور سردی بہت ہے۔فرمانے لگے کہ مہمانوں کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے اور ہمارا کیا ہے رات گزر جائے گی۔پھر میں مفتی فضل الرحمن صاحب یا کسی اور سے ٹھیک یاد نہیں رہا۔لحاف بچھونا مانگ کر اوپر لے گیا۔آپ نے فرمایا: کسی اور مہمان کو دے دو۔مجھے تو اکثر نیند بھی نہیں آیا کرتی اور میرے اصرار پر بھی آپ نے نہ لیا اور فرمایا: کسی مہمان کو دے دو۔پھر میں لے آیا۔“ ( اصحاب احمد جلد ۴ صفحه ۱۸۰)