صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 562
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۶۲ ۷۸ - كتاب الأدب کہ آپ کے واپس ہونے کا مجھے بہت درد پہنچا ہے۔چنانچہ وہ واپس ہوئے۔حضور نے یکہ پر سوار ہونے کے لئے اُنہیں فرمایا اور فرمایا کہ میں ساتھ ساتھ چلتا ہوں مگر وہ شرمندہ تھے اور وہ سوار نہ ہوئے۔اس کے بعد مہمان خانہ میں پہنچے۔حضور نے خود اُن کے بستر اُتارنے کے لئے ہاتھ بڑھا یا مگر خدام نے اُتار لیا۔حضور نے اسی وقت دو نواری پلنگ منگوائے اور اُن پر ان کے بسترے کرائے اور ان سے پوچھا کہ آپ کیا کھائیں گے اور خود ہی فرمایا کیونکہ اُس طرف چاول کھائے جاتے ہیں اس لئے میں چاول خود ہی بھیجوا دوں گا) اور رات کو دودھ کے لئے پوچھا۔غرضیکہ اُن کی تمام ضروریات اپنے سامنے مہیا فرمائیں اور جب تک کھانا آیا وہیں ٹھہرے رہے۔اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ ایک شخص جو اتنی دور سے آتا ہے۔راستہ کی تکالیف اور صعوبتیں برداشت کرتا ہے یہاں پہنچ کر سمجھتا ہے کہ اب میں منزل پر پہنچ گیا ہوں۔اگر یہاں آکر بھی اُس کو وہی تکلیف ہو تو یقیناً اس کی دل شکنی ہوگی۔ہمارے دوستوں کو اس کا خیال رکھنا چاہیئے۔اس کے بعد جب تک وہ مہمان ٹھہرے رہے حضور کا یہ معمول تھا کہ روزانہ ایک گھنٹے کے قریب ان کے پاس آکر بیٹھتے اور تقریر وغیرہ فرماتے۔جب وہ واپس ہوئے تو صبح کا وقت تھا، حضور نے دو گلاس دودھ کے منگوائے اور انہیں فرمایا: یہ پی لیجئے اور نہر تک انہیں چھوڑنے کے لئے ساتھ گئے۔راستہ میں بار بار اُن سے فرماتے رہے کہ آپ تو مسافر ہیں آپ یکہ میں سوار ہو لیں مگر وہ سوار نہ ہوئے۔نہر پر پہنچ کر انہیں سوار کرا کر حضور واپس تشریف لائے۔“ اصحاب احمد جلد چهارم صفحه ۱۶۱،۱۶۰) خطبات طاہر، خطبه جمعه فرموده ۲۴، دسمبر ۱۹۸۲، جلد اول صفحه ۳۵۵،۳۵۴) ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: کوئی شخص عیسائی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔حضرت نے اس کی بہت سی تواضع و خاطر داری کی۔وہ بہت بھوکا تھا۔حضرت نے اس کو خوب کھلایا کہ اس کا پیٹ بہت بھر گیا۔رات کو اپنی رضائی عنایت فرمائی۔جب وہ سو گیا تو اس کو بہت زور سے دست آیا کہ وہ روک نہ سکا اور رضائی میں ہی کر دیا۔جب صبح ہوئی تو