صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 561 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 561

صحیح البخاری جلد ۱۴ يَنبَغِي لَهُمْ۔طرفه: ٢٤٦١ - ۵۶۱ ۷۸ - كتاب الأدب تو اُن سے مہمان کا وہ حق لے لو جو اُنہیں دینا چاہیئے تھا۔٦١٣٨ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۶۱۳۸: عبد اللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا هِشَامٌ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِي کیا کہ ہشام بن یوسف) نے ہمیں بتایا۔معمر نے عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ ہمیں خبر دی۔معمر نے زہری سے، زہری نے اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابو سلمہ سے ، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ عنہ سے ، حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: جو اللہ پر اور یوم الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو چاہیے کہ اپنے مہمان كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ وَمَنْ سے عزت سے پیش آئے اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو چاہیے کہ وہ صلہ رحمی کرے اور خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ۔جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو چاہیئے کہ بھلی بات کرے یا خاموش رہے۔أطرافه: ٥١٨٥، ٦٠١٨، ٦١٣٦، ٦٤٧٥-۔إِكْرَامُ الضَّيْفِ وَخِدُمَتُهُ إِيَّاهُ بِنَفْسِه: مہمان کے ساتھ عزت سے پیش آنا اور خو داس کی خدمت کرنا۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی بیان فرماتے ہیں: ایک دفعہ دو شخص منی پور آسام سے قادیان آئے اور مہمان خانہ میں آکر انہوں نے خادمانِ مہمان خانہ سے کہا کہ ہمارے بستر اُتارے جائیں اور سامان لایا جائے۔چارپائی بچھائی جائے۔خادموں نے کہا: آپ خود اپنا سامان اثر دوائیں۔چار پائیاں بھی مل جائیں گی۔دونوں مہمان اس بات پر رنجیدہ ہو گئے اور فوراً یکہ میں سوار ہو کر واپس روانہ ہو گئے۔حضور کو اس واقعہ کا علم ہوا تو نہایت جلدی سے ایسی حالت میں کہ جوتا پہننا بھی مشکل ہو گیا، حضور اُن کے پیچھے نہایت تیز قدم چل پڑے۔چند خدام بھی ہمراہ تھے ، میں بھی ساتھ تھا۔نہر کے قریب پہنچ کر اُن کا یکہ مل گیا اور حضور کو آتا دیکھ کر وہ یکہ سے اتر پڑے اور حضور نے انہیں واپس چلنے کے لئے فرمایا