صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 559 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 559

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۵۹ ۷۸ - كتاب الأدب رِضًا وَعَدْلٍ۔وَيُقَالُ مَاءً غَوْرٌ وَمَاءَانِ ہے: وہ سب اس کے مہمان اور زیارت کرنے غَوْرٌ وَمِيَاهٌ غَوْرٌ وَيُقَالُ الْغَوْرُ الْغَائِرُ والے ہیں۔کیونکہ یہ (لفظ) مصدر ہے۔جیسے (کہا لَا تَنَالُهُ الدِّلَاءُ، كُلَّ شَيْءٍ غُرْتَ فِيهِ جاتا ہے: قوم راضی ہے اور عادل ہے۔اور کہا فَهُوَ مَغَارَةٌ تَزُورُ (الكهف: ۱۸) تميل جاتا ہے: پانی بہت نیچے اترا ہوا ہے۔اور (ان) دو مِنَ الزَّوَرِ وَالْأَزْوَرُ الْأَمْيَلُ۔کا پانی بہت نیچے اترا ہوا ہے۔اور (ان) سب کا پانی بہت نیچے اُترا ہوا ہے۔(یعنی لفظ غور بھی مفرد، تثنیہ اور جمع استعمال ہوتا ہے ) اور غور اور غائر ایسے اترے ہوئے (پانی) کو کہتے ہیں جو ڈول میں نہ آسکے۔ہر وہ چیز جس کے تم اندر چلے جاؤ وہ مَغَارَةً ہے۔تزاور کے معنی ہیں وہ مائل ہوتی ہے۔یہ زور سے ہے (یعنی ٹیڑھا پن) اور الازور کے معنی ہیں بہت زیادہ جھکا ہوا۔٦١٣٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ :۶۱۳۵: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سعید بن ابی سعید أَبِي سَعِيدِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ مقبری سے، سعید نے حضرت ابو شریح بھٹی سے الْكَعْبِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو چاہیے کہ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتَهُ يَوْمٌ وہ اپنے مہمان کی میزبانی عزت سے کرے، جو ایک دن اور رات ہے اور مہمان نوازی تین دن وَلَيْلَةٌ وَالضَّيَافَةُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَمَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ ہے۔اس کے بعد جو ہے وہ صدقہ ہے۔اور اس کے لئے درست نہیں کہ وہ اس کے پاس اتنی دیر يَثْوِيَ عِنْدَهُ حَتَّى يُحْرِجَهُ۔ٹھہرا رہے کہ اس کو تنگ کر ڈالے۔حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ۔۔اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھ سے مِثْلَهُ، وَزَادَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ ایسی ہی حدیث بیان کی اور یہ بڑھایا کہ جو اللہ اور